نظام رام پوری

گر دوستو! تم نے اُسے دیکھا نہیں ہوتا کہنے کا تمھارے مجھے شکوہ نہیں ہوتا

Read More

میرزا جواں بخت جہاں دار شاہ

دیکھ تیرا جمال کچھ کا کچھ دل میں آیا خیال کچھ کا کچھ

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔۔۔۔ خاکِ زمیں ہے دیکھ لو پہنا ہوا وجود

خاکِ زمیں ہے دیکھ لو پہنا ہوا وجود بوئے گُل و گلاب سے مہکا ہوا وجود ہم اپنی خواہشات مجسّم نہ کر سکے اب تک ہے جیسے چاک پہ رکھا ہوا وجود کس کس سے روٹھی پیار محبت میں فصلِ گُل کس کس کا چاہتوں میں ہے صحرا ہوا وجود کس کس کے واسطے وہ علامت بقا کی ہے ہنگامِ صبح و شام میں مٹتا ہوا وجود زندہ ہے آدمی تو عجب ڈھنگ سے یہاں بکھری ہوئی ہیں سوچیں تو سمٹا ہوا وجود اب تو یہ خواہشات کی گٹھڑی اُٹھا…

Read More

باقی احمد پوری ۔۔۔۔۔ محبت نے ہمارے درمیاں کچھ خواب رکھے ہیں

محبت نے ہمارے درمیاں کچھ خواب رکھے ہیں اور ان خوابوں کےاندر بھی نہاں کچھ خواب رکھے ہیں تم اپنی خواب گاہوں میں کسی دن غور سے دیکھو وہاں تعبیر بھی ہو گی جہاں کچھ خواب رکھے ہیں ستم گر آندھیوں کو کون یہ جا کر بتاتا ہے کہ گلشن میں برائے آشیاں کچھ خواب رکھے ہیں پڑائو ختم ہوتے ہی یہ منظر آنکھ نے دیکھا پسِ گرد و غبار ِکارواں کچھ خواب رکھے ہیں نہ کاغذ پر اُترتے ہیں نہ یہ رنگوں میں ڈھلتے ہیں مری آنکھوں میں ایسے…

Read More

میر حسن

وصل ہوتا ہے جن کو دنیا میں یا رب ! ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں

Read More

شاہ مبارک آبرو

تیرے چلنے کی سن خبر عاشق یہی کہتا موا کہ ہائے گیا

Read More

سیّدظہیر کاظمی ۔۔۔۔۔۔ حسبِ حال اپنا زائچہ ہی نہیں

(نذرِ لیاقت علی عاصم) حسبِ حال اپنا زائچہ ہی نہیں گھر بنانے کا حوصلہ ہی نہیں جس کی خاطر سفر تمام کیا مجھ کو منزل پہ وہ ملا ہی نہیں میری آنکھوں میں خواب ہیں تیرے ورنہ جینے کا حوصلہ ہی نہیں شہر خوابوں کا بس گیا،لیکن اک مسافر پلٹ سکا ہی نہیں تو نے پوچھا ہے حال رستوں کا میری آنکھوں میں کچھ بچا ہی نہیں مجھ سے بچھڑا بڑی سہولت سے جیسے وہ مجھ کو جانتا ہی نہیں آ تجھے چھوڑ آئوں منزل تک پھر نہ کہنا: مجھے…

Read More

فضل گیلانی ۔۔۔۔۔۔۔ ہنس کر میں زندگی کی اذیت اٹھائوں گا

ہنس کر میں زندگی کی اذیت اٹھائوں گا تیرے لیے سکون کے لمحے بنائوں گا میں نے بدل لیا ہے رویہ ہواے شب! اب تو دیا بجھاے گی میں پھر جلائوں گا چل ہی پڑے گی چاروں طرف بادِ نو بہار جب میں زمیں پہ آخری پتا گرائوں گا فرضی حکایتوں پہ نہ آنسو گنوائو تم یارو! کبھی میں اپنی کہانی سنائوں گا پھیلائوں گا میں دامنِ دل تیرے سامنے تو سوچتا ہے، مَیں ترا احساں اٹھائوں گا اک پل میں ایک واقعہ رکھوں گا دھیان میں اور دوسرے ہی…

Read More

جمال احسانی

جو لکھتا پھرتا ہے دیوار و در پہ نام مرا بکھیر دے نہ کہیں حرف حرف کے مجھے

Read More

نعمان فاروق ۔۔۔۔۔۔ ہر کٹھن موڑ پہ بنتے ہیں سہارے میرے

ہر کٹھن موڑ پہ بنتے ہیں سہارے میرے دوست اچھے ہیں، سنو، سارے کے سارے میرے یہ الگ بات کہ کچھ کر نہیں پائیں گے، مگر رات کی راہ تو روکیں گے ستارے میرے کہیں سرسوں کا تلاطم، کہیں کاہو کا سکوت ایک سے ایک ہیں گائوں کے نظارے میرے شب سمجھتی ہے مری بات کی ساری پرتیں دن پہ کھل ہی نہیں پاتے ہیں اشارے میرے ایک ہی طرح سے جو سوچتے ہیں ہم دونوں ایک سے درد ہیں یعنی کہ تمھارے میرے

Read More