سراج الدین ظفر

بُت تو درحقیقت ہیں یادگارِ مے خانہ بچ رہے جو رندوں سے، برہمن کے کام آئے

Read More

فرحان کبیر ۔۔۔۔۔۔ تیری آنکھوں میں اُسے دیکھ لیا کرتے ہیں

تیری آنکھوں میں اُسے دیکھ لیا کرتے ہیں اِس طرح خواب کو تعبیر کیا کرتے ہیں کل کوئی اور نکل آئے گا سورج کی طرح اِس تسلّی پہ بہت لوگ جیا کرتے ہیں یہ وہی جا ہے جہاں آ کے زمیں ختم ہوئی! لوگ، کچھ دیر، یہاں بیٹھ لیا کرتے ہیں میں زمیں پر اُتر آئوں تو زمانے جاگیں زلزلے بھی مرے ہمراہ چلا کرتے ہیں چاہے فرضی سہی، فرحان، وہ سارے کردار اِس سمندر کی حکایت میں جیا کرتے ہیں

Read More

محشر بدایونی

نہ جائو گھر کے شب افروز روزنوں پہ کہ لوگ دیا مکان میں جلتا بھی چھوڑ جاتے ہیں

Read More

محمد مختار علی ۔۔۔۔۔ زباں کے سخت مگر دِل کے پیارے ہوتے ہیں

زباں کے سخت مگر دِل کے پیارے ہوتے ہیں ذرا ذرا سے منافق تو سارے ہوتے ہیں! تم اپنی رائے بدلنے میں حق بجانب ہو ہر آدمی نے کئی روپ دھارے ہوتے ہیں انھیں کی جیت کا اعلان وقت کرتا ہے محبتوں میں بظاہر جو ہارے ہوتے ہیں گر آسماں کی بلندی سے دیکھئے مختارؔ زمیں پہ چلتے دیئے بھی ستارے ہوتے ہیں

Read More

حفیظ ہوشیار پوری

ہر مُردہ بدستِ زندگاں ہے مَیں زندہ بدستِ مُردگاں ہوں

Read More

سعید راجہ ۔۔۔۔۔ منکشف ذات کیوں نہیں کرتا

منکشف ذات کیوں نہیں کرتا آئنہ بات کیوں نہیں کرتا ایک دھن ہے کہ اس کو دیکھوں میں وہ ملاقات کیوں نہیں کرتا میرے صحرا میں پھول کھل اٹھیں ایسی برسات کیوں نہیں کرتا تیری نظروں سے کیا نہیں ممکن تو کرامات کیوں نہیں کرتا آشنائی کی آرزو ہے تجھے تو سوالات کیوں نہیں کرتا قطرہ قطرہ عنایتیں مجھ پر غم کی بہتات کیوں نہیں کرتا تیرے حالات بھی بدل جائیں تو مناجات کیوں نہیں کرتا اک معمہ ہی بن گیا ہے سعید دل تری بات کیوں نہیں کرتا

Read More

میر مہدی مجروح

نہ تو دنیا ہی میسر ہے، نہ دیں کے اسباب ہائے مجروح! کہاں تیرا ٹھکانہ ہو گا

Read More

نظام رام پوری

چشمِ گریاں! یہ کس نے پونچھے اشک دیکھ تو کون آئے بیٹھے ہیں

Read More

احمد حسین مجاہد ۔۔۔۔۔۔ جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے

جنوں میں یار سے آگے قدم نہ پڑ جائے یہ عمر بھر کی ریاضت بھی کم نہ پڑ جائے کچھ احتیاط ! مری آگ تاپنے والو کسی کی آنکھ میں شعلے کا نم نہ پڑ جائے مجھے یہ ڈر ہے مری رائگاں دعاؤں سے تمھاری تیغ ِ تغافل میں خم نہ پڑ جائے بہ فیض ِ عشق مجھے اپنا غم نہیں، لیکن یہ غم ہے، اُس کو مذاق ِ ستم نہ پڑ جائے یہ شہد و شعر دھرے کے دھرے نہ رہ جائیں کہیں اسے کوئی کار ِ اہم نہ…

Read More

خورشید ربانی ۔۔۔۔۔۔ سورج سے ہے نہ چاند ستاروں سے روشنی

سورج سے ہے نہ چاند ستاروں سے روشنی پھیلی جہان بھر میں اندھیروں سے روشنی پھر ایک دن وہ اُس سے ہم آغوش ہوگئی دریا کو دیکھتی تھی کناروں سے روشنی جلتا ہے کس مکاں میں دیا ، کس مکاں میں دل یہ بات لے اڑی ہے دریچوں سے روشنی گزرا ہے اِس طرف سے بھی شاید کوئی چراغ پھوٹی پڑی ہے راہ گزاروں سے روشنی سرگوشیاں ہیں کس کی ، اندھیرے میں کون ہے گلیوں میں جھانکتی ہے مکانوں سے روشنی بس اک لرزتی لَو تھی دلِ زار کی…

Read More