غلام حسین ساجد

بھٹک کر آئی تھی کچھ دیر کو اِدھر دُنیا لپٹ گئی مرے دل سے کسی بلا کی طرح

Read More

جگر مراد آبادی

سب کو مارا جگر کے شعروں نے اور جگر کو شراب نے مارا

Read More

عزیز قیسی ۔۔۔۔۔ آپ کو دیکھ کر، دیکھتا رہ گیا

آپ کو دیکھ کر، دیکھتا رہ گیا کیا کہوں اور کہنے کو کیا رہ گیا بات کیا ہے کہ سب غرقِ دریا ہوئے اک خدا رہ گیا، ناخدا رہ گیا سوچ کر آئو، کوئے تمنا ہے یہ جانِ من! جو یہاں رہ گیا، رہ گیا دل کے وحشت سرا سے خدا جانے کیوں سب گئے، ایک داغِ وفا رہ گیا اُن کی آنکھوں سے کیسے چھلکنے لگا میرے ہونٹوں پہ جو ماجرا رہ گیا ایسے بچھڑے سبھی رات کے موڑ پر آخری ہم سفر راستہ رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام:…

Read More

احمد مشتاق

تمام رات پھڑکتے رہے گلاب کے پھول ہوا بھی تیز تھی اور ٹہنیوں کا جال بھی تھا

Read More

وسیم بریلوی ۔۔۔۔۔۔۔ آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا اُس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا رات مجرم تھی، دامن بچا لے گئی دن، گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا وہ مرے سامنے ہی گیا اور مَیں راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے اور مَیں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا آندھیوں کے اِرادے تو اچھے نہ تھا یہ دیا کیسے جلتا ہُوا رہ گیا اس کو کاندھوں پہ لے جا رہے ہیں وسیمؔ اور وہ جینے کا حق مانگتا رہ گیا

Read More

احمد فراز ۔۔۔۔۔۔ سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں‌بہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا، جاناں! پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پا بہ جولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا تم، فراز! اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے …………………………………………… مجموعہ کلام: خوابِ گل پریشاں ہے

Read More

علامہ طالب جوہری

اُس نے مجھ سے عذر تراشے یعنی وہ یہ جان رہا تھا ایک یہی دوکان ہے جس پر کھوٹے سکے چل جائیں گے

Read More

بانی

چلو، رسمِ وفا ہم بھی اُٹھا دیں کوئی دن شہر میں چرچا رہے گا

Read More

علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔۔ بدل رہا ہوں مسلسل لہو کو پانی میں

بدل رہا ہوں مسلسل لہو کو پانی میں کچھ ایسا کرب تھا اُس شخص کی کہانی میں کمر خمیدہ ہیں حالاتِ نا مساعد سے ضعیف ہونے لگے لوگ نو جوانی میں کوئی چراغ نہ جلنے دیا خرابوں میں ہوا تھی تیرگیِ شب کی حکمرانی میں خیال بہتے رہے اس میں خاروخس کی طرح گذشتہ شب کہ تھا دریا بڑی روانی میں امیرِ وقت! کبھی خود ملاحظہ فرما گداگروں کے اضافے کو راجدھانی میں وہ سو گیا تو بہر سمت خاک اڑنے لگی جو فرد خاص تھا گلشن کی پاسبانی میں…

Read More

بانی ۔۔۔۔ تیرگی بلا کی ہے، میں کوئی صدا لگاؤں

تیرگی بلا کی ہے، میں کوئی صدا لگاؤں ایک شخص ساتھ تھا، اُس کا کچھ پتا لگاؤں بہتے جانے کے سوا، بس میں کچھ نہیں تو کیا دشمنوں کے گھاٹ ہیں، ناؤ کیسے جا لگاؤں وہ تمام رنگ ہے، اس سے بات کیا کروں وہ تمام خواب ہے، اُس کو ہاتھ کیا لگاؤں کچھ نہ بن پڑے تو پھر ایک ایک دوست پر بات بات شک کروں، تہمتیں جُدا لگاؤں منظر آس پاس کا ڈوبتا دکھائی دے میں کبھی جو دور کی بات کا پتا لگاؤں ایسی تیری بزم کیا،…

Read More