لا کر کسی نے پھول جو رکھے ہیں ہجر میں کانٹے بچھا دیے ہیں ہمارے پلنگ پر
Read MoreTag: غزلیں
غالب ۔۔۔۔ نقش فریادی ہے کس کی شوخیء تحریر کا
نقش فریادی ہے کس کی شوخیء تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا کاوکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شِیر کا جذبہء بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینہء شمشیر سے باہر ہے، دم شمشیر کا آگہی، دامِ شنیدن جس قدر، چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے، اپنے عالمِ تقریر کا شوخیء نیرنگ، صیدِ وحشتِ طائوس ہے دام، سبزے میں ہے ، پروازِ چمن تسخیر کا لذتِ ایجادِ ناز، افسونِ عرضِ ذوقِ قتل نعل، آتش میں ہے تیغِ یار سے، نخچیر کا…
Read Moreخمار بارہ بنکوی
زندگی اب نام کی ہے، دل کہیں، نظریں کہیں ہائے کیا شیرازہء برہم لیے جاتا ہوں مَیں
Read Moreجعفر بلوچ
اپنے چہروں کے داغ دھو نہ سکے آئنوں پر برس رہے ہیں لوگ
Read Moreقلندر بخش جرات
اب بھی آنا ہے تو آ، ورنہ میاں! یہ بھی سامان نہیں رہنے کا
Read Moreخالد علیم ۔۔۔
جب قریہ قریہ گرم لہو کی دھار گئی اک وحشت خیز صدا سینوں کے پار گئی اک درد کی گونج سے دل کا مکان لرز اٹھا اور سناٹے کی چیخ سرِ بازار گئی اک مات کو جیت بنانے گھر سے نکلے تھے پر دشت ِ سفر کی وحشت ہم کو مار گئی اب شامیں صبحوں کی دہلیز پہ بیٹھی ہیں اب اس بستی سے چڑیوں کی چہکار گئی جب جا کے اُفق کی جھیل میں سورج ڈوب گیا تب شہر بہ شہر ستاروں کی للکار گئی کل رات کے پچھلے…
Read Moreمیر شیر علی افسوس … جان سے پہلے ہاتھ اُٹھائیے گا
جان سے پہلے ہاتھ اُٹھائیے گا جب کہیں اپنا دل لگائیے گا ہم نے جانا کہ شمع رُو ہیں آپ پر ہمیں کب تلک جلائیے گا مَیں تو جی دینے پر بھی حاضر ہوں کیا مجھے آپ آزمائیے گا رات جاتی ہے اپنی زلفوں کو مکھڑے پر کب تلک بنائیے گا ق کل ہے جی میں کہ جا کے اس کے پاس رو کے احوالِ دل سنائیے گا خواہ وہ مہرباں ہو خواہ نہ ہو اپنا دکھ درد سب جتائیے گا کر کے غیروں سے ربط، اے صاحب! کب تک…
Read Moreمیر شیر علی افسوس
اُس کے اُٹھتے ہی جی پہ آن بنی دیکھیے آگے آگے کیا ہو گا
Read Moreشاہ نجم الدین آبرو ( شاہ مبارک آبرو)
بوسہ لبوں کا دینے کہا، کہہ کے پِھر گیا پیالہ بھرا شراب کا، افسوس! گِر گیا
Read Moreشہزاد نیر ۔۔۔
خاموش صداؤں سے، نہ پیغام سے آیا وہ حسن مِرے پاس کسی کام سے آیا آیا تو نظر آیا مجھے خارِ ضرُورت ہائے وہ گلِ خاص، رہِ عام سے آیا جب رات ڈھلی، یاد جِگر چیر کے گزری ویسے تو خیال اُس کا مجھے شام سے آیا آنچل سے اُبھر آئے ہیں جوبن کے خَم و پیچ اِس شِعر میں اِبلاغ بھی اِبہام سے آیا یہ پھول مِرے قُرب کے موسم نے کِھلائے یہ رنگ ـــــ ترے رخ پہ مِرے نام سے آیا تکتا ہوں امارت کی فلک بوس عمارت…
Read More