گریزاں ۔۔۔۔نجیب احمد DOWNLOAD
Read MoreTag: غزلیں
فراق گورکھپوری
جو بھولتی بھی نہیں، یاد بھی نہیں آتیں تری نگاہ نے کیوں وہ کہانیاں نہ کہیں
Read Moreزرِ ملال ۔۔۔۔ نجیب احمد
زرِ ملال ۔۔۔۔ نجیب احمد DOWNLOAD
Read Moreعبارتیں ۔۔۔ نجیب احمد
عبارتیں ۔۔۔۔ نجیب احمد DOWNLOAD
Read Moreنجیب احمد
پانی کے چلتے چشمے کب رُکتے ہیں کیوں آوازیں دیتے ہیں اشجار مجھے
Read Moreجلیل عالی…. شکستگی سے سفر کے ہنر نکالتے ہیں
شکستگی سے سفر کے ہنر نکالتے ہیں کہ خاکِ خواب سے خوابِ دگر نکالتے ہیں ہمارے حوصلے دیکھو قدم قدم کیسے تمہارے قامتِ قسوت سے سر نکالتے ہیں گرا گرا کے وہ بارود ہار جائے گا ہم اک نگاہ میں ملبے سے گھر نکالتے ہیں کس اوجِ شوق سے زیرِ زمیں اترتے ہیں اور اپنی خاک سے شمس و قمر نکالتے ہیں متاعِ اہلِ وفا اک یہی سر و سودا ہو جس طرح کی بھی دیوار ، در نکالتے ہیں یہی قلم کی ہے رَو بجھ نہ پائے لفظ کی…
Read Moreداغ دہلوی
مآلِ کار خدا جانے، داغ! کیا ہو گا خدا سے کام پڑا آخری زمانے میں
Read Moreشاد عظیم آبادی
ہنستے ہنستے رو دیا کرتے تھے سب بے اختیار اِک نئی ترکیب کا درد اپنے افسانے میں تھا
Read Moreغزل ۔۔۔۔ میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں
میں ہوں دھوپ اور تو سایا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جگ میں کس کا کون ہوا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں من مورکھ ہے‘ مت سمجھائو‘ کرنی کا پھل پائے گا چڑھتا دریا کب ٹھہرا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں تم تو اب بھی مجھ سے پہروں دھیان میں باتیں کرتے ہو ترکِ تعلق کیا ہوتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں جانے والے‘ حد یقیں تک ہم نے جاتے دیکھے ہیں واپس لوٹ کے کون آتا ہے سب کہنے کی باتیں ہیں میں سوچوں کی…
Read Moreاحمد ندیم قاسمی
کون جگ میں ترا ہم سر دیکھے کوئی اس دھند میں کیوں کر دیکھے عمر بھر ایک ترا دھیان رہا یوں تو مہر و مہ و اختر دیکھے آنکھ صرف آنکھ ہے، آئینہ نہیں جو تجھے سامنے پا کر دیکھے تیرے جاتے ہی یہ محسوس ہوا عمر گزری تجھے پل بھر دیکھے دور ہی دور سلگنے والے کاش تو پاس بھی آ کر دیکھے ہم تو تھے حسن کے تاریخ نگار ہم نے قیصر نہ سکندر دیکھے لوگ ماضی کے دھوئیں میں ڈوبے ہم نے گیسوئے معنبر دیکھے نظر آئے…
Read More