موسیٰ سے ضرور آج کوئی بات ہوئ ہے جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور
Read MoreTag: غزلیں
غلام حسین ساجد… جس کا ہم سر کوئ ستارہ نہیں
جس کا ہم سر کوئ ستارہ نہیں وہ چراغ آج جگمگایا نہیں کیا ہے موجود، کیا نہیں موجود اس سے اپنا کوئی علاقہ نہیں آئنہ، آسمان، آبِ زلال میں نے کس کس حسیں کو چاہا نہیں حسرتوں کا شمار کون کرے غم نہیں اس کا جو بھی پایا نہیں میں ہوں جس دل ربا کا شیدائی اس نے اب تک مجھے پکارا نہیں اب مجھے نیند کی ضرورت ہے جاگنے سے تو کچھ افاقہ نہیں اپنی وحشت سے نبھ رہی ہے مری اہلِ دنیا سے کوئی جھگڑا نہیں لوٹ آئی…
Read Moreنجیب احمد
نہ جانے کس گلی کی دُھول اُٹھ کر ہوا کے ساتھ گھر میں آ گئ ہے
Read Moreاعجاز کنور راجہ … چھپا کے شب سے جو شمس و قمر بناتے ہیں
چھپا کے شب سے جو شمس و قمر بناتے ہیں دکھائی دیتے نہیں ہیں مگر بناتے ہیں حروفِ سبز میں ڈوبے ہوئے قلم لے کر ہم اپنے دستِ ہنر سے شجر بناتے ہیں ستارا وار چنی ہے کرن کرن ہم نے اور اپنے حسنِ نظر سے سحر بناتے ہی ترا وجود غنیمت ہے اے سیاہئ شب ہم اپنی اپنی ضرورت کے ڈر بناتے ہیں کنارا ہاتھ سے چھوڑا نہیں ابھی ہم نے خیال و خواب میں ہر سو بھنور بناتے ہیں رواج ہے کہ جو خود با خبر نہیں ہوتے…
Read Moreارشد شاہین
درد سہتا ہوں مگر شور مچاتا کم ہوں ضبط کرتا ہوں بہت ، اشک بہاتا کم ہوں آسماں سر پہ اٹھاتا نہیں غم میں اکثر اور خوشیوں میں بھی مَیں ڈھول بجاتا کم ہوں ٹوٹ جائے نہ بھرم میری انا کا یک سر آئنے! یوں بھی ترے سامنے آتا کم ہوں جانتا ہوں کہ مجھے کیسا سفر ہے در پیش سو مَیں ہمت سے سوا ، بوجھ اٹھاتا کم ہوں مَیں کہ واقف ہوں تعلق کے تقاضوں سے میاں شوق رکھتا ہوں مگر دوست بناتا کم ہوں میرے بارے میں…
Read Moreجاوید شاہین
مَیں کیسے کاٹ دوں یہ خشک شاخ ِ دل شاہین کسے خبر کبھی اس پر ثمر نکل آئے
Read Moreکنور امتیاز احمد
غزلوں کو دُعا بنا رہا ہوں اک رستہ نیا بنا رہا ہوں
Read Moreشاہد ماکلی ۔۔۔۔ مرے ہی سانس کے بل پر فروغ پاتا ہوا
مرے ہی سانس کے بل پر فروغ پاتا ہوا یہ کیسا شعلہ ہے مجھ میں جگہ بناتا ہوا یہ ذوق ہے عمل انگیز کی طرح مجھ کو اُفق اُفق مری رفتار کو بڑھاتا ہوا ہزار نوری برس پر تھا میری رات سے دن مَیں آپ مٹ گیا یہ فاصلہ مٹاتا ہوا مَیں اپنے دُودھیا رستے سے ہو کے جاتا ہوں زمیں سے اور کسی کہکشاں کو جاتا ہوا کہیں نہ اپنی بصارت سے ہاتھ دھو بیٹھوں اک آفتاب کو مَیں آئنے میں لاتا ہوا خواص ،جانیے، کیا تھے دل اور…
Read Moreشہرت بخاری
لاہور کہ اہلِ دل کی جاں تھا کوفے کی مثال ہو گیا ہے
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ منتظر دشتِ دل و جاں ہے کہ تو آئے
منتظر دشتِ دل و جاں ہے کہ تو آئے سارے منظر ہی بدل جائیں اگر تو آئے بے ہنر ہاتھ چمکنے لگا سورج کی طرح آج ہم کس سے ملے، آج کسے چھو آئے ہم تجھے دیکھتے ہی نقش بہ دیوار ہوئے اب وہی تجھ سے ملے گا جسے جادو آئے اپنے ہی عکس کو پانی میں کہاں تک دیکھوں ہجر کی شام ہے، کوئی تو لبِ جو آئے کسی جانب نظر آتا نہیں بادل کوئی اور جب سیلِ بلا آئے تو ہر سو آئے چاہتا ہوں کہ ہو پرواز…
Read More