ڈانٹ کھاتا ہے شعور آج گھرانے بھر کی بچپنے میں یہ چہیتا تھا گھرانے بھر کا
Read MoreTag: غزلیں
میرا جی … غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا، کیا اب تم سے بیان کریں
غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا، کیا اب تم سے بیان کریں غم بھی راس نہ آیا دل کو، اور ہی کچھ سامان کریں کرنے اور کہنے کی باتیں کس نے کہیں اور کس نے کیں کرتے کہتے دیکھیں کسی کو، ہم بھی کوئی پیمان کریں بھلی بری جیسی بھی گزری اُن کے سہارے گزری ہے حضرتِ دل جب ہاتھ بڑھائیں، ہر مشکل آسان کریں ایک ٹھکانا آگے آگے پیچھے پیچھے مسافر ہے چلتے چلتے سانس جو ٹوٹے منزل کا اعلان کریں میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے…
Read Moreمنیر سیفی
کل مر جاتا، بہتر تھا آج تو حالت بدتر ہے
Read Moreحسین مجروح
ہَوا کے جسم پر نیلی خراشیں فضا کی برہمی بتلا رہی ہیں
Read Moreعزم بہزاد
مَیں اپنی انگشت کاٹتا تھا کہ بیچ میں نیند آ نہ جائے اگرچہ سب خواب کا سفر تھا مگر حقیقت میں آ بسا ہوں
Read Moreعباس رضوی ۔۔۔۔ ستارے چاہتے ہیں، ماہتاب مانگتے ہیں
ستارے چاہتے ہیں، ماہتاب مانگتے ہیں مرے دریچے نئی آب و تاب مانگتے ہیں وہ خوش خرام جب اس راہ سے گزرتا ہے تو سنگ و خشت بھی اذنِ خطاب مانگتے ہیں کوئی ہوا سے یہ کہہ دے ذرا ٹھہر جائے کہ رقص کرنے کی مہلت حباب مانگتے ہیں عجیب ہے یہ تماشا کہ میرے عہد کے لوگ سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں مَیں مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں یہ احتساب تو دیکھو کہ…
Read Moreیگانہ
پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا!
Read Moreسید ضیاء الدین نعیم
کسی سے کچھ مجھے کہنا نہیں ہے غلط فہمی میں بھی رہنا نہیں ہے نہیں کرنا ہے جو ہے نامناسب بہاؤ کی طرف بہنا نہیں ہے تدارک کچھ نہ کچھ کرنا ہے اس کا ستم چپ چاپ اب سہنا نہیں ہے میں کیوں تقلید کی زنجیر پہنوں کہ یہ اک طوق ہے ، گہنا نہیں ہے جمے رہنا نعیم اپنی جگہ پر کسی صورت تمہیں ڈہنا نہیں ہے
Read Moreمراتب اختر
چھو کر حدِ فنا کو جوانی جواں ہوئی جو آگ جل رہی تھی وہ آخر دھواں ہوئی آمادہِ سفر کی نگاہیں تڑپ گئیں سیٹی رُکی تو شام کی گاڑی رواں ہوئی
Read Moreماہ نامہ شام و سحر جولائی1997ء
ماہ نامہ شام و سحر ۔۔ جولائی 1997ء Download
Read More