بادِ نسیاں ہے، مرا نام بتا دو کوئی ڈھونڈ کر لاؤ مجھے، میرا پتا دو کوئی حادثہ ہے کہ ستاروں سے مجھے وحشت ہے مجھ کو اس دشت کے آداب سکھا دو کوئی وہ اندھیرا ہے کہ تنہائی سے ہول آتا ہے سارے بچھڑے ہوئے لوگوں کو صدا دو کوئی ایک مدت سے چراغوں کی طرح جلتی ہیں ان ترستی ہوئی آنکھوں کو بجھا دو کوئی موج در موج مری زندگی گرداب میں ہے اس سفینے کو کنارے سے لگا دو کوئی
Read MoreTag: غزلیں
باقی احمد پوری
گھر تو برباد کر دیا تم نے اب تمھیں گھر سے دور جانا ہے
Read Moreقابل اجمیری…. تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کرو گے
تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کرو گے مَیں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو مَیںمسکرایا تو کیا کرو گے مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو مگر کچھ اپنے لیے بھی سوچا مَیں یاد آیا تو کیا کرو گے کچھ اپنے دل پہ بھی زخم کھاؤ، مرے لہو کی بہار کب تک مجھے سہارا بنانے والو، مَیں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ، لیکن تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو…
Read Moreسید آلِ احمد
شاید مَیں تیرے دھیان میں پھر سے اُبھر سکوں مَیں اجنبی سہی، مجھے پہچان کے تو دیکھ
Read Moreسلیم ساگر
ایک حد تک بھلا دیا تجھ کو ایک حد تک ذرا نہیں بھولے
Read Moreڈاکٹر شفیق آصف ۔۔۔۔ شبِ غم جو سورج اُگانے لگا ہے
شبِ غم جو سورج اُگانے لگا ہے وہ خوابوں سے مجھ کو جگانے لگا ہے جو خود ایک دن کوڑیوں میں بِکا تھا وہ اب میری قیمت لگانے لگا ہے یہاں حال جس سے بھی پوچھا ہے مَیں نے وہی اِک کہانی سنانے لگا ہے وہ مہتاب جس کا ہے اُس کا رہے گا تو اپنا دیا کیوں بجھانے لگا ہے جو ناراض تھا آسمانوں سے آصف وہ ٹھوکر سے مٹی اُڑانے لگا ہے
Read Moreاسرار الحق مجاز ۔۔۔ کمالِ عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں مَیں
کمالِ عشق ہے دیوانہ ہو گیا ہوں مَیں یہ کس کے ہاتھ سے دامن چھڑا رہا ہوں مَیں تمھی تو ہو جسے کہتی ہے ناخدا دنیا بچا سکو تو بچا لو کہ ڈُوبتا ہوں مَیں یہ میرے عشق کی مجبوریاں معاذ اللہ تمھارا راز تمھی سے چھپا رہا ہوں مَیں اس اِک حجاب پہ سو بے حجابیاں صدقے جہاں سے چاہتا ہوں تم کو دیکھتا ہوں مَیں بتانے والے وہیں پر بتاتے ہیں منزل ہزار بار جہاں سے گزر چکا ہوں مَیں کبھی یہ زعم کہ تو مجھ سے چھپ…
Read Moreغالب
چار موج اُٹھتی ہے طوفانِ طرب سے ہر سُو موجِ گل، موجِ شفق، موجِ صبا، موجِ شراب
Read Moreپہلی دُھوپ ۔۔۔۔ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے شعراء کا منتخب کلام (1997ء)
پہلی دھوپ ۔۔۔۔ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے شعراء کا منتخب کلام DOWNLOAD
Read Moreاحمد ندیم قاسمی ۔۔۔ درِ کسریٰ پہ صدا کیا کرتا
درِ کسریٰ پہ صدا کیا کرتا اِک کھنڈر مجھ کو عطا کیا کرتا جس اندھیرے میں ستارا نہ جلے ایک مٹی کا دیا کیا کرتا ریت بھی ہاتھ میں جس کے نہ رُکی وہ تہی دست، دعا کیا کرتا ڈھب سے جینا بھی نہ آیا جس کو اپنے مرنے کا گلہ کیا کرتا اس کا ہونا ہے مرے ہونے سے میں نہ ہوتا تو خدا کیا کرتا تو نے کب مجھ کے دیے میرے حقوق میں ترا فرض ادا کیا کرتا ایک دُھتکار تو جھولی میں پڑی تو نہ ہوتا…
Read More