وہ جو نہیں ہیں بزم میں بزم کی شان بھی نہیں پھول ہیں دل کشی نہیں، چاند ہے چاندنی نہیں ڈھونڈا نہ ہو جہاں انہیں ایسی جگہ کوئی نہیں پائی کچھ ان کی جب خبر اپنی خبر ملی نہیں آنکھ میں ہو پرکھ تو دیکھ حسن سے پر ہے کل جہاں تیری نظر کا ہے قصور جلووں کی کچھ کمی نہیں عشق میں شکوہ کفر ہے اور ہر التجا حرام توڑ دے کاسۂ مراد، عشق گداگری نہیں جوشِ جنونِ عشق نے کام مرا بنا دیا اہلِ خرد کریں معاف حاجتِ…
Read MoreTag: اردو شاعری کی کتابیں
فیض احمد فیض ۔۔۔ وہی ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں
وہی ہیں دل کے قرائن تمام کہتے ہیں وہ اک خلش کہ جسے تیرا نام کہتے ہیں تم آ رہے ہو کہ بجتی ہیں میری زنجیریں نہ جانے کیا مرے دیوار و بام کہتے ہیں یہی کنارِ فلک کا سیہ تریں گوشہ یہی ہے مطلعِ ماہِ تمام کہتے ہیں پیو کہ مفت لگا دی ہے خونِ دل کی کشید گراں ہے اب کے مئے لالہ فام کہتے ہیں فقیہِ شہر سے مے کا جواز کیا پوچھیں کہ چاندنی کو بھی حضرت حرام کہتے ہیں نوائے مرغ کو کہتے ہیں اب…
Read Moreعزیز فیصل
دے رہے ہیں اس لیے جنگل میں دھرنا جانور ایک چوہے کو رہائش کے لیے بل چاہیئے
Read Moreنوح ناروی ۔۔۔ اہلِ الفت سے تنے جاتے ہیں
اہلِ الفت سے تنے جاتے ہیں روز روز آپ بنے جاتے ہیں ذبح تو کرتے ہو کچھ دھیان بھی ہے خون میں ہاتھ سنے جاتے ہیں روٹھنا ان کا غضب ڈھائے گا اب وہ کیا جلد منے جاتے ہیں کچھ اِدھر دل بھی کھنچا جاتا ہے کچھ اُدھر وہ بھی تنے جاتے ہیں کیوں نہ غم ہو مجھے رسوائی کا وہ مرے ساتھ سَنے جاتے ہیں دل نہ گھبرائے کہ وہ روٹھ گئے چار فقروں میں مَنے جاتے ہیں ہے یہ مطلب نہیں چھیڑے کوئی بیٹھے بیٹھے وہ تنے جاتے…
Read Moreشہزاد احمد
تمام عمر ہوا پھونکتے ہوئے گزری رہے زمیں پہ مگر خاک کا مزا نہ لیا
Read Moreبشیر احمد حبیب ۔۔۔۔ ہم پاس تھے مگر کبھی باہم نہیں ہوئے
شاداب الفت ۔۔۔ ہماری آنکھ نے یوں بھی عذاب دیکھا تھا
ہماری آنکھ نے یوں بھی عذاب دیکھا تھا کسی کی آنکھ سے بہتا جواب دیکھا تھا لبوں سے آپ کے گر کر بکھر گئی ہوگی ہر ایک شے پہ جو رنگِ شراب دیکھا تھا ہمارے لمس نے جادو تمہارے رخ پہ کیا تبھی تو شیشے میں تم نے گلاب دیکھا تھا قریب آپ کے میں بھی کھڑا ہوا تھا کل وہی جو خاک میں لپٹا جناب دیکھا تھا
Read Moreعبدالحمید عدم
مفلسوں کو امیر کہتے ہیں آبِ سادہ کو شیر کہتے ہیں اے خدا! تیرے باخرد بندے بزدلی کو ضمیر کہتے ہیں
Read Moreعزیز فیصل
کودے ہیں اُس کے صحن میں دو چار شیر دل ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے
Read Moreہاجر دہلوی ۔۔۔۔ آپ جب سامنے بیٹھے ہیں تو حال اچھا ہے
سوچتا ہوں کبھی حوروں کا خیال اچھا ہے کبھی کہتا ہوں کہ اس بت کا جمال اچھا ہے مجھ سے کہتے ہیں کہو عشق میں حال اچھا ہے چھیڑ اچھی ہے یہ اندازِ سوال اچھا ہے نہ ادائیں تری اچھی نہ جمال اچھا ہے اصل میں چاہنے والے کا خیال اچھا ہے دیکھ کر شکل وہ آئینہ میں اپنی بولے کون کہتا ہے کہ حوروں کا جمال اچھا ہے جو ہنر کام نہ آئے تو ہنر پھر کیسا کام جو وقت پر آئے وہ کمال اچھا ہے وہ جوانی وہ…
Read More