اقبال قمر…. ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں

ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں کہ تیر تھے ہی نہیں اور کمانیں کھلنے لگیں وہ اک خیال جو ہم نے کبھی تراشا تھا اسی کے نام پہ ساری دکانیں کھلنے لگیں بس ایک عزمِ مصمم ہے راستے کی کلید قدم اٹھایا نہیں اور چٹانیں کھلنے لگیں سکوت تھا کہ سبھی حلقہ ہائے نور میں تھے چراغ بجھتے گئے اور زبانیں کھلنے لگیں خدا نہ کردہ ہو عجلت مزاج تم سا قمر شکار آیا نہیں اور مچانیں کھلنے لگیں

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے

نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے دوستو! اب مجھے گردن زَدَنی کہتے ہو تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے ہم جو دستک کبھی دیتے تھے…

Read More

ہے میرے دل کے آئینے میں اک تصویر مٹی کی ۔۔۔  شفیق آصف

ہے میرے دل کے آئینے میں اک تصویر مٹی کی مِرے مٹی کے خوابوں کو ملی تعبیر مٹی کی بھٹکتےپھر رہےہیں ہم نہ جانےکن جزیروں میں خود اپنے پاؤں میں ڈالےہوئے زنجیر مٹی کی تکلف برطرف آنکھوں میں میری اِک ذرا جھانکو وہاں تُم کو نظر آئے گی اِک تصویر مٹی کی اُبھرنا اور رنگوں میں اُتر آنا دھنک بن کر یہ اندازِ محبت ہے نئی تفسیر مٹی کی مجھے اپنوں سے رہتا ہے شکستِ فاش کا خطرہ مِرے سب تِیر مٹی کے، مری شمشیر مٹی کی محبت خاک کے…

Read More