یہ جنت ہے۔۔۔؟ ……… محمد کاشف حنیف

یہ جنت ہے۔۔۔؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جنت ہے؟ مجھےبتلائے گا کوئی ،یہ جنت ہے؟ مرے اجداد کہتے تھے: یہ جنت ہے وہ جنت جس کی خاطر اتنی جانوں کو نچھاور کر کےآئے ہیں مجھے بتلائے گا کوئی: یہ جنت ہے؟ یہاں تو سوچ گھائل ہے یہاں تو روح گھائل ہے یہاں دامن دریدہ ہیں یہاں احساس گھائل ہے ہر اِک جانب کئی مقتل، کئی لاشے اُٹھائے پھر رہے ہیں اور کہیں آہیں،کہیں پر سوگ طاری ہے عجب سا خوف طاری ہے، عجب سا روگ طاری ہے فضا میں پھیلتی بے حِس…

Read More

عرفان ستار

بتا نہ پائیں تو خود تم سمجھ ہی جاؤ کہ ہم بلا جواز تو بے ماجرا نہیں ہوئے ہیں

Read More

ڈاکٹر غافر شہزاد

ہم نے ہجرت کی تو ہے، دل سے مگر مانی نہیں گائوں کی خوشبو ہمارے جسم سے جانی نہیں

Read More

معاصر غزل کی فکریات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابد سیال

معاصر غزل کی فکریات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئندہ سطور میں کی جانے والی بات کا فوری تناظر اگرچہ معاصر غزل ہے لیکن عمومی طور پر یہ باتیں کسی بھی زمانے کی غزل بلکہ شاعری اور اس سے بھی بڑھ کر پورے ادب کے بارے میں کی جا سکتی ہیں۔ بات موضوعات سے متعلق ہے۔ سادہ لفظوں میں اور اجمالی طور پر میرا مؤقف یہ ہے کہ کسی شاعری کی اہمیت، جواز اور بقا اس میں ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ شخصی بمعنی ’پرسنل‘ ہو۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ…

Read More

معین ناصر ۔۔۔۔۔۔ وہ سراپا رہا سہا اُس کا

وہ سراپا رہا سہا اُس کا منتظر ہو گا آئنہ اُس کا عشق اُس نے کبھی کیا ہو گا رکھ رکھائو بتا گیا اُس کا اُس کا ملنا محال تھا،یہ تو خوشبوئوں نے دیا پتہ اُس کا وہ کہانی عجب کہانی تھی تن بدن سٹپٹا گیا اُس کا اور پھر سوچنے لگا ناصر کون در کھٹکھٹا گیا اُس کا

Read More

اے مرے رشکِ گلِِ آتش فام ۔۔۔۔۔۔ ایوب خاور

اے مرے رشکِ گلِ آتش فام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک آواز کی تصویر بنانی ہے مجھے ایک آواز کہ جس کی پرواز رنگ در رنگ نواحِ دلِ صد خواب کے گرد یوں خطِ لمسِ ادا کھینچتی ہے اپنی انگڑائی کو آفاق کے بھیگے ہوئے کینوس پہ کہیں جس طرح قوسِ قزح کھینچتی ہے اے مری قوسِ قزح! ایک آواز کی تصویر بنانی ہے مجھے ایک دیوار گرانی ہے مجھے ایک دیوار اُٹھانی ہے مجھے آئنے جوڑ کے ایک آئنہ خانے کومجھے اُن لبوں کی کوئی تمثیل دکھانی ہے جنھیں جب صبا چومنے…

Read More

احمد ندیم قاسمی

حسن کا فرض ہوا کرتی ہے آرائشِ حسن صبح کیا کرتی ہے ہر روز سنورنے کے سوا

Read More

لا موجود ۔۔۔۔۔۔ نعیم رضا بھٹی

لا موجود ۔۔۔۔۔۔۔ شکستہ گھر ہے دہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے بکھر چکے ہیں پرندگاں جو یہاں چہکنے میں محو رہتے تھے خامشی کی سلوں کے نیچے دبے پڑے ہیں سلیں جو گھر کی ادھڑتی چھت سے کلام کرتیں تو روشنی کو قرار ملتا قرار جس نے بجھے چراغوں کی حیرتوں کو ثبات بخشا افق سے آگے ہمارے حیلوں فریب دیتے ہوئے بہانوں کی قدر کم تھی سو ہم بقا سے فنا کی جانب پلٹ رہے ہیں خمیرِ آدم ہے استعارہ شکستگی کا خلا سے باہر ہمارے…

Read More

ابو طالب انیم ۔۔۔۔۔۔۔ رخِ سیاہ سنوارا نہیں گیا مجھ سے

رخِ سیاہ سنوارا نہیں گیا مجھ سے چمکتے دن بھی ستارا نہیں گیا مجھ سے دعا کو ہاتھ بھی تھے اور فلک قریب بھی تھا مَیں رو دیا کہ پکارا نہیں گیا مجھ سے مَیں زندگی سے فقط ایک دن ہی چاہتا تھا وہ ایک دن بھی گذارا نہیں گیا مجھ سے یہ بات طے تھی مجھے صرف اس سے ہارنا تھا وہ کھیل اس لیے ہارا نہیں گیا مجھ سے کنویں میں چھوڑ تو آیا تھا یوسفِ دل کو پر اس کے بعد ابھارا نہیں گیا مجھ سے مَیں…

Read More

ناصر کاظمی

تمام عمر یونہی ہم نے دکھ اٹھایا ہے کہ زیادہ خرچ کیا اور کم کمایا ہے

Read More