شوق، ہر رنگ رقیبِ سروساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی یارب! تیر بھی سینۂ بسمل سے پَرافشاں نکلا بوئے گل، نالۂ دل، دودِ چراغِ محفل جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا دلِ حسرت زدہ تھا مائدۂ لذتِ درد کام یاروں کا بہ قدرٕ لب و دنداں نکلا اے نو آموزِ فنا ہمتِ دشوار پسند! سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا شوخئِ رنگِ حنا خونِ وفا سے کب تک آخر اے عہد شکن! تو…
Read MoreTag: Karwaan
اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا عشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا دل تاجگر کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی دل بھی اگر گیا، تو وہی دل کا درد تھا احباب چارہ سازئ وحشت نہ کر سکے زنداں میں بھی خیال،…
Read Moreاسداللہ خاں غالب ۔۔۔ دل مرا سوز ِنہاں سے بے محابا جل گیا
دل مرا سوز ِنہاں سے بے محابا جل گیا آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا عرض کیجے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں؟ کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ داغوں کی بہار اِس چراغاں کا کروں کیا کارفرما جل گیا میں ہوں…
Read Moreاسداللہ خاں غالب
ہے کہاں تمنّا کا دوسرا قدم یا رب ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
Read Moreاحمد عقیل روبی
لوگ مائل بہ کرم ہیں پھر سے جانے اب کون سی افتاد پڑے
Read Moreغالب ۔۔۔ شمارِ سبحہ، مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیا
شمارِ سبحہ، مرغوبِ بتِ مشکل پسند آیا تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا بہ فیضِ بے دلی، نومیدئ جاوید آساں ہے کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا ہوائے سیرِگل، آئینۂ بے مہرئ قاتل کہ اندازِ بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا
Read Moreسلسلے سوالوں کے ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی
سلسلے سوالوں کے ۔۔۔۔……۔۔۔۔۔۔۔ دن کے چہچہوں میں بھی رات کا سا سنّاٹا رات کی خموشی میں جیسے دن کے ہنگامے جاگتی ہوئی آنکھیں، نیند کے دھندلکوں میں خواب کے تصوّر میں اک عذابِ بیداری روز و شب گزرتے ہیں قافلے خیالوں کے صبح و شام کرتے ہیں آپ اپنی غم خواری ہم کہاں ہیں؟ ہم کیا ہیں؟کون ہیں مگر کیوں ہیں؟ ختم ہی نہیں ہوتے سلسلے سوالوں کے چشمۂ ہدایت ہے علم کے صحیفوں میں فن کے شاہکاروں میں اک چراغِ عرفاں ہے مرحمت کے ساماں ہیں ان کی…
Read Moreمظفر حنفی ۔۔۔ چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے
چراغ اپنے ہوا دینے سے پہلے جلانے تھے بجھا دینے سے پہلے میاں کیا لازمی تھا خاک اُڑانا کسی کو راستا دینے سے پہلے نسیمِ صبح کو آیا پسینہ خزاں کو بد دعا دینے سے پہلے ملا سکتے ہو کیا ہم سے نگاہیں بغاوت کی سزا دینے سے پہلے مناسب ہے کہ پڑھ لی جائے تختی کسی در پر صدا دینے سے پہلے ہمارا ہارنا طے ہو چکا تھا تمھارے ہاتھ اٹھا دینے سے پہلے سخی مشہور تھے ہم بھی مظفرؔ مگر سب کچھ لٹا دینے سے پہلے
Read Moreیزدانی جالندھری
یاد اک جاگ اٹھی درد کی انگڑائی میں اس دریچے سے کوئی جلوہ فشاں ہے کہ جو تھا
Read More