سید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔ کیا حادثہ ہوا ہے کہاں ہیں مکاں کے لوگ

کیا حادثہ ہوا ہے کہاں ہیں مکاں کے لوگ شاید زمیں میں دھنستے رہے ہیں یہاں کے لوگ درپیش تھے زمیں کے مسائل بطورِ خاص محفل سے اُٹھ کے جانے لگے آسماں کے لوگ تجدیدِ راہ و رسم کے کچھ سلسلے تو تھے دیوار بن گئے ہیں مگر درمیاں کے لوگ شاید وہ سر زمینِ قناعت بھی ہو کہیں رہتے ہوں اپنے ظرف کے اندر جہاں کے لوگ شہروں کی پستیوں میں بھی رہنے کے باوجود اب تک بہت عظیم ہیں گاؤں گراں کے لوگ اشعر ہوا کے شور کا…

Read More

معین احسن جذبی

سوالِ شوق پہ کچھ اُن کو اجتناب سا ہے جواب یہ تو نہیں ہے مگر جواب سا ہے

Read More

آفتاب حسین

گُزار دی شبِ عُمر اور اس کے بعد کُھلا اُس آنکھ میں بھی کوئی خواب ہے ہمارے لیے

Read More

شاہین عباس

چہار رخ مرے دو بازوؤں کی باڑ لگا کسی طرف سے بھی فصلِ فنا خراب نہ ہو

Read More

حمیدہ شاہین

شاید پیچھے آنے والے ہم سے بہتر دیکھیں ہم نے کچھ دروازے کھولے ، کچھ پردے سرکائے

Read More

غالب

محبت تھی چمن سے لیکن اب یہ بے دماغی ہے کہ موجِ بوئے گل سے ناک میں آتا ہے دم میرا

Read More

بہار کی واپسی ۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

بہار کی واپسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں چپ چاپ بیٹھا ہوں اس رہگزر پر یہی سوچتا ہوں کہ خط لانے والا کہیں آج بھی کہہ نہ دے: کچھ نہیں ہے یہ کیا بات ہے لوگ اک دوسرے سے جدا ہو کے یوں جلد ہیں بھول جاتے وہ دن رات کا ساتھ ہنسنا ہنسانا وہ باتیں جنھیں غیر سے کہہ نہ پائیں اچھوتے سے الفاظ جو شاہراہوں پہ آتے ہوئے دیر تک ہچکچائیں کچھ الفاظ کے پھول جو اس چمن میں کھلے تھے جسے محفلِ دوش کہیے جو کچھ دیر پہلے ہی برہم…

Read More

حامد یزدانی… ایک تھر ہے اِدھر شِمال میں بھی

ایک تھر ہے اِدھر شِمال میں بھی میرا گھر ہے اِدھر شِمال میں بھی ایک وقفہ کہ زندگی کہیے مختصر ہے اِدھر شِمال میں بھی غم نوردی اُدھر ہی ختم نہیں دوپہر ہے اِدھر شِمال میں بھی ضبط کی مشرقی روایت کا کچھ اثر ہے اِدھر شِمال میں بھی کبھی حامد کی شاعری سنیے کچھ ہنر ہے اِدھر شِمال میں بھی

Read More

غالب

نہ ہوگا یک بیاباں ماندگی سے ذوق کم میرا حبابِ موجۂ رفتار ہے نقشِ قدم میرا

Read More

غالب ۔۔۔ دہر میں نقشِ وفا وجہ ِتسلی نہ ہوا

دہر میں نقشِ وفا وجہ ِتسلی نہ ہوا ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنی نہ ہوا سبزۂ خط سے ترا کاکلِ سرکش نہ دبا یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا میں نے چاہا تھا کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا دل گزر گاہ خیالِ مے و ساغر ہی سہی گر نفَس جادہ سرمنزلِ تقوی نہ ہوا ہوں ترے وعدہ نہ کرنے پہ بھی راضی کہ کبھی گوش منت کشِ گلبانگِ تسلّی نہ ہوا کس سے محرومئ قسمت کی شکایت…

Read More