آج تو رونے کو جی ہو جیسے پھر کوئی آس بندھی ہو جیسے شہر میں پھرتا ہوں تنہا تنہا آشنا ایک وہی ہو جیسے ہر زمانے کی صدائے موعتوب میرے سینے سے اٹھی ہو جیسے خوش ہوئے ترکِ وفا کر کے ہم اب مقدّر بھی یہی ہو جیسے اس طرح شب گئے ٹوٹی ہے امید کوئی دیوار گری ہو جیسے یاس آلود ہے ایک ایک گھڑی زرد پھولوں کی لڑی ہو جیسے میں ہوں اور وعدۂ فردا تیرا اور اک عمر پڑی ہو جیسے بے کشش ہے وہ نگاہِ صد…
Read MoreTag: Karwaan
ریاض ندیم نیازی ۔۔۔ کوئی دیوار سلامت ہے نہ گھر باقی ہے
مرزا واجد حسین یاس یگانہ
سمجھتے کیا تھے مگر سنتے تھے ترانہِ درد سمجھ میں آنے لگا جب تو پھر سُنا نہ گیا
Read Moreقابل اجمیری
ہاں ہوشیار، چشمِ فسوں کار ہوشیار دل کو تری نگاہ کے انداز آ گئے
Read Moreحفیظ اللہ بادل … زمین کھینچتے ہیں، آسمان کھینچتے ہیں
زمین کھینچتے ہیں، آسمان کھینچتے ہیں ہم اپنے جسم سے کیا کیا جہان کھینچتے ہیں بس ایک خطِ محبت ہے اور کچھ بھی نہیں جِسے ہم اپنے ترے درمیان کھینچتے ہیں کِھنچے ہوے ہیں کسی خواب کی کمان میں ہم اس ایک اڑان سے سارا جہان کھینچتے ہیں ہم اپنی عاجزی میں مَست ہیں سو شہر کے لوگ براے شغل ہمیں پر زبان کھینچتے ہیں یہاں تو قیس کی نِسبت سے ہیں، وگرنہ ہمیں مکین کھینچتے ہیں اور مکان کھینچتے ہیں غزالِ دشت! ہمارا مزاج اپنا ہے ہم اپنے ہاتھ…
Read Moreممتاز اطہر … دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے
دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے وقت کی سانس اٹکنے لگی ہے میں نے رکھا ہے دریچے میں دیا اور ہوا راہ بھٹکنے لگی ہے عشق تھا پہلے پڑاٶ پہ ابھی پھر نٸی آگ دہکنے لگی ہے مجھ کو بھی خواب نے گھیرا ہوا ہے رات بھی آنکھ جھپکنے لگی ہے ایک دھندلی سی کسی یاد کی لَو کتنی یادوں میں دمکنے لگی ہے کوٸی صحرا مرے اندر ہے رواں ریت آنکھوں سے ٹپکنے لگی ہے اب ترا ساتھ ضروری ہے مجھے زندگی ہاتھ جھٹکنے لگی ہے کون اطہر…
Read Moreفیصل ہاشمی
وہ آنکھ جس کے لیے میں اُداس رہتا ہوں بھری ہوئی ہے کسی اور ہی نظارے سے
Read Moreشاہد ماکلی … مرے سُکوت سے ٹکراتی تھی ہنسی اس کی
مرے سُکوت سے ٹکراتی تھی ہنسی اس کی زیادہ دن نہ چلی دوستی مری اس کی وہ منہدم ہوا اپنی کشش کے زیرِ اثر اور ایک نقطے میں جِھلمل سمٹ گئی اس کی میں ایک منظرِ گم گشتہ کی تلاش میں تھا اُمید آگے سے آگے لیے پھری اس کی فسردہ یوں بھی نہیں ہوں مَیں دل کے بجھنے پر تم آؤ گے تو چمک لوٹ آۓ گی اس کی نہ صرف یہ کہ چھٹی حِس یقیں دلاتی ہے گواہی دیتے ہیں پانچوں حواس بھی اس کی خبر دُھوئیں کی…
Read Moreعطاء الرحمن قاضی ۔۔۔ ساعتِ ہجر کو ارژنگ نوائی دے گا
ساعتِ ہجر کو ارژنگ نوائی دے گا وہ اگر ہے اسی منظر میں دکھائی دے گا اب گلابی میں کہاں جلوۂ گلزارِ ارم رند تڑپیں گے ہر اک جام دہائی دے گا خلوتِ ناز سے دوری نے رکھا گرمِ سفر مر ہی جاؤں گا اگر مجھ کو رسائی دے گا دے رہا ہے جو نمو زخم کو ، اک روز وہی دیکھنا ، مرہمِ گریہ مرے بھائی دے گا جھانکتا ہے یہ جو مہتاب کسی غرفے سے نیلمیں شام کو ساغر سے رہائی دے گا زخمہ ور ، چھیڑ! رگِ…
Read Moreعابد سیال ۔۔۔ دور دیسوں سے بلائے بھی نہیں جا سکتے
دور دیسوں سے بلائے بھی نہیں جا سکتے وہ پکھیرو جو بھلائے بھی نہیں جا سکتے تُرش خُو ، تیز مزہ پھل ہیں یہاں کے اور ہم بنا چکھے ، بنا کھائے بھی نہیں جا سکتے حیرتِ مرگ ، بلاوا ہے یہ اس جانب سے جس طرف دھیان کے سائے بھی نہیں جا سکتے کرچی کرچی کی چبھن سہنا بھی آسان نہیں خواب آنکھوں سے چھپائے بھی نہیں جا سکتے کچھ جو کہتا ہوں تو پھر اپنا ہی دل کٹتا ہے لوگ اپنے ہیں، رُلائے بھی نہیں جا سکتے
Read More