پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
Read MoreTag: Karwaan
میر اثر
وائے غفلت کہ ایک ہی دم میں مَیں کہیں اور کاروان کہیں
Read Moreنواب مصطفٰی خان شیفتہ
حسرت سے اُس کے کوچے کو کیوں کر نہ دیکھیے اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا
Read Moreآرزو لکھنوی
لطفِ بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار دل کیا اُجڑ گیا کہ زمانہ اُجڑ گیا
Read Moreجلیل عالی ۔۔۔ حرف دو حرف
حرف دو حرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل دریچوں میں وہی زرد گمانوں کا غبار وہی احساس کا بے رنگ سا موسم وہی تکرارِ خیال وہی یادوں کے تھکے عکس۔۔۔نگہ کی دیوار وہی ثابت وہی سیّار وہی بے ربط سی بے کیف صدائوں کے الٹ پھیر۔۔۔سماعت کا عذاب سرِ قرطاس نیا کوئی سوال اور نہ جواب خالقِ لوح و قلم! تیرے کرم کے قرباں! پھر تری رحمتِ جاں تاب سے ارزانی ہو سوچ آنگن میں کوئی تازہ ہوا کا جھونکا حرف دو حرف سفر آگے کا
Read Moreمژدم خان ۔۔۔ کس کو روشن بنا رہے ہو تم ؟
کس کو روشن بنا رہے ہو تم ؟ اِتنا جو بجھتے جا رہے ہو تم گاؤں کی جھاڑیاں بتا رہی ہیں شہر میں گُل کِھلا رہے ہو تم ایک تو ہم اُداس ہیں اُس پر شاعروں کو بُلا رہے ہو تم اور کس نے تمھیں نہیں دیکھا اور کس کے خدا رہے ہو تم پھول کس نے قبول کرنے ہیں جب تلک مسکرا رہے ہو تم
Read Moreنوشاد منصف … بھڑکتی کیوں نہ مری آتشِ انا پھر سے
بھڑکتی کیوں نہ مری آتشِ انا پھر سے بنا ہے رونقِ محفل وہ بے وفا پھر سے یہ آج گردشِ دوراں کہاں پہ لے آئی میں ڈھونڈتا ہوں نیا کوئی آسرا پھر سے نکل پڑے ہیں اچانک ہی اشک خون آلود لوآج پھوٹ پڑا دل کا آبلہ پھر سے وہ جس میں آئی نظرمنزلِ مراد مری تو دے سکے گا وہی مجھ کو آئنہ پھر سے؟ ابھر رہا ہے زمانے میں بعد مدت کے ستم گروں کے ستم کا وہ سلسلہ پھر سے چراغِ زیست کوئی کس طرح جلے منصف…
Read Moreالیاس بابر اعوان ۔۔۔ دِلوں کے داغ سمٹ کر جبیں پہ آ گئے ہیں
دِلوں کے داغ سمٹ کر جبیں پہ آ گئے ہیں ہم آسمان سے سیدھے زمیں پہ آ گئے ہیں جو کشتی چھوڑ گئی ہے وہ لے بھی جائے گی گماں کی سمت فقط اِس یقیں پہ آ گئے ہیں درست طور غَلط اُنگلی تھام لی گئی تھی کہیں پہ جانا تھا لیکن کہیں پہ آ گئے ہیں بس ایک دُکھ نے سبھی کو اِکٹھا کر دیا ہے تمام لوگ محبت کے دیں پہ آ گئے ہیں جس اہتمام سے ہم راستوں سے بھٹکے تھے جہاں پہ جانا تھا آخر وہیں…
Read Moreعباس رضوی ۔۔۔ مثالِ موجِ صبا اعتبار اپنا نہیں
مثالِ موجِ صبا اعتبار اپنا نہیں کہ دل تو اپنا ہے پر اختیار اپنا نہیں یہ برگ و بار، یہ سرو و سمن اُسی کے ہیں کوئی گلاب سرِ شاخسار اپنا نہیں نہ منزلوں کی خبر ہے، نہ کارواں ہے کوئی مگر قیام سرِ رہ گُذار اپنا نہیں اُنھی کا خوف اُنھی سے خطر جو اپنے ہیں امید ہے تو اُسی سے ہزار اپنا نہیں گئے وہ دن کہ ہمی پیاس تھے ہمی شبنم نہ جانے کس کا ہے اب انتظار، اپنا نہیں یہ اور بات کہ شامل غبارِ راہ…
Read Moreاشرف سلیم
اب آئنے کے برابر ٹھہر گیا ہے سلیم غزال شہر میں وہ خود نمائی چاہتا ہے
Read More