سرِ بام بھی پکارا ، لبِ دار بھی صدا دی میں کہاں کہاں نہ پہنچا تری دید کی لگن میں
Read MoreTag: Urdu literature
قتیل شفائی
یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا
Read Moreقتیل شفائی
رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ
Read Moreقتیل شفائی
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
Read Moreقتیل شفائی
حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں
Read Moreقتیل شفائی
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی
Read More