Tag: بہترین
نبیل احمد نبیل ۔۔۔ دو غزلیں
رحیم احسن ۔۔۔ حضرت سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کی غزل گوئی
حضرت سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کی غزل گوئی شاعری ہماری زندگی کے رویوں کی عکاس ہے اس سے معاشرے اوراس کے باسیوں کے شب و روز کے موزوں یا ناموزوں ہونے کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ شاعری جہاں خوشی کی کیفیت سے دو چار کرتی ہے ۔ اس کے ساتھ وہ حزن و ملال بھی پید ا کرنے کا باعث ہے ۔ شاعری نے جہاں انسانی ذہن اور شعور کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ وہاں اس نے غزل کی شکل میں…
Read Moreکیف مراد آبادی ۔۔۔ اہل دل جو بھی بات کہتے ہیں
اہلِ دل جو بھی بات کہتے ہیں کوئی رازِ حیات کہتے ہیں ان کے غم سے ہے جاوداں‘ ورنہ زیست کو بے ثبات کہتے ہیں ہائے وہ دورِ عشق جب آنسو داستانِ حیات کہتے ہیں خوابِ غفلت میں جو گزرتا ہے ہم تو اس دن کو رات کہتے ہیں عشق کی اصطلاح میں غم کو انقلابِ حیات کہتے ہیں جو بھی ہیں واقفِ حقیقتِ دل دل کو ہی کائنات کہتے ہیں لفظ و معنی میں آ نہیں سکتی وہ نظر سے جو بات کہتے ہیں مردِ حق میں تو ماسوا…
Read Moreقتیل شفائی ۔۔۔ حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں
Read Moreعبدالحمید عدم
مفلسوں کو امیر کہتے ہیں آبِ سادہ کو شیر کہتے ہیں اے خدا! تیرے باخرد بندے بزدلی کو ضمیر کہتے ہیں
Read Moreعزیز فیصل
کودے ہیں اُس کے صحن میں دو چار شیر دل ہم فیس بک کی وال سے آگے نہیں گئے
Read Moreہاجر دہلوی ۔۔۔۔ آپ جب سامنے بیٹھے ہیں تو حال اچھا ہے
سوچتا ہوں کبھی حوروں کا خیال اچھا ہے کبھی کہتا ہوں کہ اس بت کا جمال اچھا ہے مجھ سے کہتے ہیں کہو عشق میں حال اچھا ہے چھیڑ اچھی ہے یہ اندازِ سوال اچھا ہے نہ ادائیں تری اچھی نہ جمال اچھا ہے اصل میں چاہنے والے کا خیال اچھا ہے دیکھ کر شکل وہ آئینہ میں اپنی بولے کون کہتا ہے کہ حوروں کا جمال اچھا ہے جو ہنر کام نہ آئے تو ہنر پھر کیسا کام جو وقت پر آئے وہ کمال اچھا ہے وہ جوانی وہ…
Read Moreنظر لکھنوی ۔۔۔ موسمِ گل تو یہ بس سال بہ سال اچھا ہے ۔ (دو غزلہ)
فتنہ زا فکر ہر اک دل سے نکال اچھا ہے آئے گر حسنِ خیال اس کو سنبھال اچھا ہے میرے احساسِ خودی پر نہ کوئی زد آئے تو جو دے دے مجھے بے حرف سوال اچھا ہے آپ مانیں نہ برا گر تو کہوں اے ناصح صاحبِ قال سے تو صاحب حال اچھا ہے بے خیالی نہ رہے خام خیالی سے بچو دل میں بس جائے جو ان کا ہی خیال اچھا ہے تیرے رخ پر ہو مسرت تو مرا دل مسرور تیرے چہرے پہ نہ ہو گردِ ملال اچھا…
Read Moreتلوک چند محروم ۔۔۔ ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے
طائرِ دل کے لیے زلف کا جال اچھا ہے حیلہ سازی کے لیے دانۂ خال اچھا ہے دل کے طالب نظر آتے ہیں حسیں ہر جانب اس کے لاکھوں ہیں خریدار کہ مال اچھا ہے تاب نظارہ نہیں گو مجھے خود بھی‘ لیکن رشک کہتا ہے کہ ایسا ہی جمال اچھا ہے دل میں کہتے ہیں کہ اے کاش نہ آئے ہوتے ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے مطمئن بیٹھ نہ اے راہروِ راہِ عروج ترا رہبر ہے اگر خوفِ زوال اچھا ہے نہ رہی بے…
Read More