کھڑکی کھلی کوئی نہ کوئی در ہی وا ہوا سو بار اس گلی میں صدا کر کے آئے ہیں
Read MoreTag: best poems
غلام حسین ساجد ۔۔۔ جو کوئی پھول میسّر نہ ہو آسانی سے
غزل جو کوئی پھول میسّر نہ ہو آسانی سے کام لیتا ہوں وہاں نقدِ ثنا خوانی سے روشنی دینے لگے تھے مری آنکھوں کے چراغ رات تکتا تھا سمندر مجھے حیرانی سے کر کے دیکھوں گا کسی طرح لہو کی بارش آتشِ ہجر بجھے گی نہ اگر پانی سے اُن کو پانے کی تمنا نہیں جاتی دل سے کیا منور ہیں ستارے مری تابانی سے ؟ کوئی مصروف ہے تزئین میں قصرِ دل کی چوب کاری سے ، کہیں آئنہ سامانی سے خاک زادوں سے تعلق نہیں رکھتے کچھ لوگ…
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ بے خودی میں ان کے وعدے معتبر سمجھا نہیں
بے خودی میں ان کے وعدے معتبر سمجھا نہیں وہ اگر آئے بھی تو میں دوپہر سمجھا نہیں اس نے کس جملے کو سن کر کہہ دیا تجھ سے کہ خیر نامہ بر میں یہ جوابِ مختصر سمجھا نہیں اس قفس کو چھوڑ دوں کیونکر کہ جس کے واسطے میں نے اے صیاد اپنے گھر کو گھر سمجھا نہیں تہمتیں ہیں مجھ پہ گمرا ہی کی گستاخی معاف خضر سا رہبر تمہاری رہگزر سمجھا نہیں ہے مرض وہ کون سا جس کا نہیں ہوتا علاج بس یہ کہیے دردِ دل…
Read Moreیزدانی جالندھری
ہم جانتے ہیں آئے گا کیا عرش سے جواب دستِ دعا سے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں ہم
Read Moreخالد احمد ۔۔۔ اسی غم کی اوٹ ملا تھا وہ مجھے پہلی بار یہیں کہیں
اسی غم کی اوٹ ملا تھا وہ مجھے پہلی بار یہیں کہیں کسی چشمِ تر میں تلاش کر اُسے میرے یار یہیں کہیں یہ جو سمتِ عشق میں جھیل ہے ، یہ جو سمتِ غم میں پہاڑ ہیں مری راہ دیکھ رہا نہ ہو مرا شہ سوار یہیں کہیں مرے دل کے باب نہ کھولنا، مرے جان و تن نہ ٹٹولنا کسی زاویے میں پڑ ا نہ ہو، وہ بتِ نگار یہیں کہیں گلِ شام! اے گلِ سُرمگیں ! وہ خدنگِ ربطِ گُل آفریں مری جان دیکھ ہوا نہ ہو،…
Read Moreپنڈت جواہر ناتھ ساقی
داغِ غمِ فراق مٹایا نہ جائے گا جلتا ہوا چراغ بجھایا نہ جائے گا
Read Moreچکبست لکھنوی
نئے جھگڑے نرالی کاوشیں ایجاد کرتے ہیں وطن کی آبرو اہلِ وطن برباد کرتے ہیں
Read Moreآرزو لکھنوی
رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی سینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی
Read Moreریاض خیر آبادی
میرے پہلو میں ہمیشہ رہی صورت اچھی میں بھی اچھا مری قسمت بھی نہایت اچھی
Read Moreشہزاد احمد ۔۔۔ پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے
پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے معزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیں امامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کا جواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ ملک اپنا ہے اور اس ملک کی سرکار اپنی ہے ملی ہے نوکری جب سے بغاوت چھوڑ دی ہم نے ہے اتنا واقعہ اس سے نہ ملنے کی قسم کھا لی تأسف…
Read More