آصف شفیع

مَیں چپ ہوں اب اُسے کیسے بتاؤں کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے

Read More

آصف شفیع … جہانِ حرف کی جانب جھکاؤ تھا ہی نہیں

جہانِ حرف کی جانب جھکاؤ تھا ہی نہیں سخنوری سے کچھ اُس کو لگاؤ تھا ہی نہیں ہمیں تو خاک اُڑاناتھی، بس اُڑا آئے ہمارا دشت میں کوئی پڑاؤ تھا ہی نہیں میں رو پڑا یہ بتاتے ہوئے “ میں جب لوٹا” وہ لوگ، خیمے، وہ جلتا الاؤ تھا ہی نہیں وفا میں جاں سے نہ جاتے تو اور کیا کرتے ہمارے پاس کوئی اور داؤ تھا ہی نہیں اسی لیے مرے حصے میں آئی جنسِ وفا لگا دیا تھا جو میں نے وہ بھاؤ تھا ہی نہیں ہوا کے…

Read More

آصف شفیع … صدیوں سے اجنبی

صدیوں سے اجنبی ……………………. اُس کی قربت میں بیتے سب لمحے میری یادوں کا ایک سرمایہ خوشبوئوں سے بھرا بدن اس کا دل کو بھاتا تھا بانکپن اُس کا شعلہ افروز حسن تھا اُس کا دلکشی کا وہ اک نمونہ تھی مجھ سے جب ہمکلام ہوتی تھی خواہشوں کے چمن میں ہر جانب چاہتوں کے گلاب کھلتے تھے اُس کی قربت میں ایسے لگتا تھا اک پری آسماں سے اتری ہو جب کبھی میں یہ پوچھتا اُس سے ساتھ میرے چلو گی تم کب تک مجھ سے قسمیں اُٹھا کے…

Read More

عمران اعوان

سانس لینا محال ٹھہرا ہے تیری محفل میں لوگ اتنے ہیں

Read More

عمران اعوان ۔۔۔ ہنستے چہرے پہ بھی قرار نہیں

ہنستے چہرے پہ بھی قرار نہیں اسطرح زندگی گزار نہیں تو نے ہر بار جھوٹ بولا ہے تیری باتوں کا اعتبار نہیں تو یہاں وقت پاس کرتا ہے مجھ کو معلوم ہے یہ پیار نہیں تیرا ہر سال اک کہانی ہے میرا لمحوں میں بھی شمار نہیں میں پسِ بام دیکھ سکتا ہوں صرف آنکھوں پہ انحصار نہیں تیری آنکھوں میں ہو بھی سکتا ہے میرے چہرے پہ تو غبار نہیں تو مجھے کب کا بھول بیٹھا ہے اور مجھے تیرا انتظار نہیں زندگی سے فرار ممکن ہے ہجر کی…

Read More

عمران اعوان … یہی تو سوچ کے ہلکان تھا میں سارا دن

یہی تو سوچ کے ہلکان تھا  میں سارا دن کہ میرے بعد بھی کٹتا رہا تمہارا دن مجھے پتہ ہے ترا فلسفہ  ضرورت ہے اسی لیے تو مرے بعد بھی گزارا دن ہم آج شام سے پہلے نہ لوٹ پائیں گے کہاں یہ لمبا سفر اور  کہاں ہمارا دن ہم اہل ہجر ہیں راتوں کو جاگنے والے ہمارے واسطے تو نے نہیں اتارا دن ہمیں بھی وصل کے لمحے عزیز ہیں جاناں! ہمیں بھی زندگی سے دے کوئی ادھارا دن حسین لگنے لگی ہے تمام دنیا مجھے تمہاری آنکھ نے…

Read More

رفیع الدین راز

روئے سخن کدھرہے خبر ہے مجھے جناب غافل نہیں ہوں صرفِ نظر کر رہا ہوں میں

Read More

حسن عباس رضا

برے بھلے کا اسے فرق ہی نہیں معلوم کہیں وہ گھر نہ جلا دے، دیا جلاتے ہوئے

Read More

شفیق آصف

بچھڑیں گے تم سے اس کا تو خدشہ رہا مگر ترکِ تعلقات کا وہم و گماں نہ تھا

Read More