اقبال قمر…. ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں

ذرا سی بات چلی داستانیں کھلنے لگیں کہ تیر تھے ہی نہیں اور کمانیں کھلنے لگیں وہ اک خیال جو ہم نے کبھی تراشا تھا اسی کے نام پہ ساری دکانیں کھلنے لگیں بس ایک عزمِ مصمم ہے راستے کی کلید قدم اٹھایا نہیں اور چٹانیں کھلنے لگیں سکوت تھا کہ سبھی حلقہ ہائے نور میں تھے چراغ بجھتے گئے اور زبانیں کھلنے لگیں خدا نہ کردہ ہو عجلت مزاج تم سا قمر شکار آیا نہیں اور مچانیں کھلنے لگیں

Read More

محمد افتخار شفیع

میں نکل آتا ہوں بازار کے سناٹے میں گھر میں تو خوف کا احساس نہیں رہتا ہے

Read More

شہزاد احمد ۔۔۔ نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے

نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے وہ مجھے دیکھ کے پہچان لیا کرتے تھے آخرِ کار ہوئے تیری رضا کے پابند ہم کہ ہر بات پہ اصرار کیا کرتے تھے خاک ہیں اب تری گلیوں کی وہ عزت والے جو ترے شہر کا پانی نہ پیا کرتے تھے اب تو انسان کی عظمت بھی کوئی چیز نہیں لوگ پتھر کو خدا مان لیا کرتے تھے دوستو! اب مجھے گردن زَدَنی کہتے ہو تم وہی ہو کہ مرے زخم سیا کرتے تھے ہم جو دستک کبھی دیتے تھے…

Read More

میر تقی میر ۔۔۔ مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کا

مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمالِ راہ کاخاک افتادہ ہوں میں بھی اک فقیر اللہ کاسیکڑوں طرحیں نکالیں یار کے آنے کی لیکعذر ہی جاہے چلا اس کے دلِ بد خواہ کاگر کوئی پیرِ مغاں مجھ کوکرے تو دیکھےپھرمے کدہ سارے کا سارا صرف ہے اللہ کاکاش تیرے غم رسیدوں کو بلاویں حشر میںظلم ہے اک خلق پر آشوب اُن کی آہ کا

Read More

ساقی فاروقی

موت نے پردا کرتے کرتے پردا چھوڑ دیا میرے اندر آج کسی نے جینا چھوڑ دیا خوف کہ رستہ بھول گئ امید کی اجلی دھوپ اس لڑکی نے بالکنی پر آنا چھوڑ دیا روز شکایت لے کر تیری یاد آ جاتی ہے جس کا دامن آہستہ آہستہ چھوڑ دیا دنیا کی بے راہ روی کے افسانے لکھے اور اپنی دنیا داری کا قصہ چھوڑ دیا بس تتلی کا کچا کچا رنگ آنکھوں میں ہے زندہ رہنے کی خواہش نے پیچھا چھوڑ دیا

Read More