بات کرے بالک سے ۔۔۔۔۔۔۔ مجید امجد

بات کرے بالک سے ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات کرے بالک سے ۔۔۔۔ اور بولے رَہ چلتوں سے، اک یہ ذرا کچھ ڈھلی ہوئی شوبھا والی کوملتا، اُس کے ستے ستے سے بال اور پیلی مانگ سے کچھ سرکا ہوا آنچل، دُکھی دُکھی سی دِکھنے کی کوشش کا دُکھ اُس کے چہرے کو چمکائے اور اُس کے دل کو اک ڈھارس سی دے، بڑے یقینوں میں مُڑ مُڑ کر دیکھے جیسے کچھ رستے میں بھول آئی ہو، مُڑنے میں وہ بات کرے اپنے پیچھے چلتے بالک سے ، لیکن بولے مجھ سے،…

Read More

علامہ طالب جوہری

اُس نے مجھ سے عذر تراشے یعنی وہ یہ جان رہا تھا ایک یہی دوکان ہے جس پر کھوٹے سکے چل جائیں گے

Read More

بانی

چلو، رسمِ وفا ہم بھی اُٹھا دیں کوئی دن شہر میں چرچا رہے گا

Read More

علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔۔ بدل رہا ہوں مسلسل لہو کو پانی میں

بدل رہا ہوں مسلسل لہو کو پانی میں کچھ ایسا کرب تھا اُس شخص کی کہانی میں کمر خمیدہ ہیں حالاتِ نا مساعد سے ضعیف ہونے لگے لوگ نو جوانی میں کوئی چراغ نہ جلنے دیا خرابوں میں ہوا تھی تیرگیِ شب کی حکمرانی میں خیال بہتے رہے اس میں خاروخس کی طرح گذشتہ شب کہ تھا دریا بڑی روانی میں امیرِ وقت! کبھی خود ملاحظہ فرما گداگروں کے اضافے کو راجدھانی میں وہ سو گیا تو بہر سمت خاک اڑنے لگی جو فرد خاص تھا گلشن کی پاسبانی میں…

Read More

اجنبی ۔۔۔۔۔۔ پروین شاکر

اجنبی ۔۔۔۔ کھوئی کھوئی آنکھیں بکھرے بال شکن آلود قبا لُٹا لُٹا انسان ! سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا ہے، لیکن کسی جگہ مل جائے تو گھبرا کے مُڑ جاتا ہے اور پھر دور سے جا کر مجھ کو تکنے لگتا ہے کون ہے یہ؟

Read More

بانی ۔۔۔۔ تیرگی بلا کی ہے، میں کوئی صدا لگاؤں

تیرگی بلا کی ہے، میں کوئی صدا لگاؤں ایک شخص ساتھ تھا، اُس کا کچھ پتا لگاؤں بہتے جانے کے سوا، بس میں کچھ نہیں تو کیا دشمنوں کے گھاٹ ہیں، ناؤ کیسے جا لگاؤں وہ تمام رنگ ہے، اس سے بات کیا کروں وہ تمام خواب ہے، اُس کو ہاتھ کیا لگاؤں کچھ نہ بن پڑے تو پھر ایک ایک دوست پر بات بات شک کروں، تہمتیں جُدا لگاؤں منظر آس پاس کا ڈوبتا دکھائی دے میں کبھی جو دور کی بات کا پتا لگاؤں ایسی تیری بزم کیا،…

Read More

سراج اورنگ آبادی

لذت شبِ وصال کی مت پوچھ صبح کوں رہتا نہیں فجر کو مجھے شب کا خواب یاد

Read More

آخری ملاقات ۔۔۔۔۔ ظہور نظر

  آخری ملاقات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ریزہ ریزہ ہو کر گرتی تھر تھر کرتی اک دیوار کا سایہ کڑی دھوپ میں عجب روپ میں میری جانب آیا میں نے اُس کو اُس نے مجھ کو سینے سے لپٹایا دھوپ ڈھلی تو شامِ وفا نے عجب سوال اٹھایا مجھ سے اور دیوار سے پوچھا کس نے کسے بچایا وہ تو تھی دیوار سو چپ تھی میں بھی بول نہ پایا

Read More

ظہور نظر

دیپک راگ ہے چاہت اپنی، کاہے سنائیں تمھیں ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں، کیوں سُلگائیں تمھیں

Read More

جگر مراد آبادی ۔۔۔۔۔ ستمِ کامیاب نے مارا

ستمِ کامیاب نے مارا کرمِ لا جواب نے مارا خود ہوئی گم، ہمیں بھی کھو بیٹھی نگہِ بازیاب نے مارا زندگی تھی حجاب کے دم تک برہمئ حجاب نے مارا عشق کے ہر سکونِ آخر کو حسن کے اضطراب نے مارا خود نظر بن گئی حجابِ نظر ہائے اس بے حجاب نے مارا میں ترا عکس ہوں کہ تو میرا اس سوال و جواب نے مارا کوئی پوچھے کہ رہ کے پہلو میں تیر، کیا اضطراب نے مارا بچ رہا جو تری تجلی سے اُس کو تیرے حجاب نے مارا…

Read More