سورج سے ہے نہ چاند ستاروں سے روشنی پھیلی جہان بھر میں اندھیروں سے روشنی پھر ایک دن وہ اُس سے ہم آغوش ہوگئی دریا کو دیکھتی تھی کناروں سے روشنی جلتا ہے کس مکاں میں دیا ، کس مکاں میں دل یہ بات لے اڑی ہے دریچوں سے روشنی گزرا ہے اِس طرف سے بھی شاید کوئی چراغ پھوٹی پڑی ہے راہ گزاروں سے روشنی سرگوشیاں ہیں کس کی ، اندھیرے میں کون ہے گلیوں میں جھانکتی ہے مکانوں سے روشنی بس اک لرزتی لَو تھی دلِ زار کی…
Read MoreTag: best urdu poetry
مِحرم …… عنبرین صلاح الدین
مِحرم …….. عورتوں سے بھرا صحن ہے بین کرتی ہوئی عورتیں دھوپ کی زرد چادر ہے اور چھت کو جاتی ہوئی سیڑھیوں کے اُکھڑتے کنارے پہ اٹکا ہوا دن پھسلتی ہوئی دھوپ دیوار پر، سبز بیلوں میں اُلجھی ہوئی بیل جیسے کوئی اور دیوار کے ساتھ کرسی پہ بیٹھی ہوئی سب کے پُرسوں کی محور۔۔۔ اُدھر صحن کے بیچ میں کچھ قدم پر پڑا ،اُس کی آدھی صدی کی رفاقت کا پورا بدن دھوپ کی بیل بیلوں کے ہاتھوں سے جیسے نکلتی چلی جا رہی ہے یہ بیلیں ، یہ…
Read Moreغلام حسین ساجد
بھٹک کر آئی تھی کچھ دیر کو اِدھر دُنیا لپٹ گئی مرے دل سے کسی بلا کی طرح
Read Moreجگر مراد آبادی
سب کو مارا جگر کے شعروں نے اور جگر کو شراب نے مارا
Read Moreہر جادۂ شہر ۔۔۔۔۔۔ بانی
ہر جادۂ شہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہر کی اک اک سڑک پھانکتی آئی ہے لاکھوں حادثوں کی سرد دُھول جانے کتنے اجنبی اک دوسرے کے دوست بننے سے کنارہ کر گئے اور کتنے آشنائوں کے دلوں سے مٹ گئ پہچان بھی! سو نگاہیں —- لاکھ زخم چار سمتی لاکھ جھوٹ! سو تماشوں کے پڑے ہیں جا بہ جا دھبے جنھیں گردِ مسافت میں چھپانے کے لیے برق پا لمحوں کو تھامے دوڑتے جاتے ہیں ہم! لمحے دو لمحے کو — دم لینے کی خاطر— سُست ہو جائیں مگر شہر کی اک اک…
Read Moreعزیز قیسی ۔۔۔۔۔ آپ کو دیکھ کر، دیکھتا رہ گیا
آپ کو دیکھ کر، دیکھتا رہ گیا کیا کہوں اور کہنے کو کیا رہ گیا بات کیا ہے کہ سب غرقِ دریا ہوئے اک خدا رہ گیا، ناخدا رہ گیا سوچ کر آئو، کوئے تمنا ہے یہ جانِ من! جو یہاں رہ گیا، رہ گیا دل کے وحشت سرا سے خدا جانے کیوں سب گئے، ایک داغِ وفا رہ گیا اُن کی آنکھوں سے کیسے چھلکنے لگا میرے ہونٹوں پہ جو ماجرا رہ گیا ایسے بچھڑے سبھی رات کے موڑ پر آخری ہم سفر راستہ رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام:…
Read Moreاحمد مشتاق
تمام رات پھڑکتے رہے گلاب کے پھول ہوا بھی تیز تھی اور ٹہنیوں کا جال بھی تھا
Read Moreوسیم بریلوی ۔۔۔۔۔۔۔ آتے آتے مرا نام سا رہ گیا
آتے آتے مرا نام سا رہ گیا اُس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا رات مجرم تھی، دامن بچا لے گئی دن، گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا وہ مرے سامنے ہی گیا اور مَیں راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے اور مَیں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا آندھیوں کے اِرادے تو اچھے نہ تھا یہ دیا کیسے جلتا ہُوا رہ گیا اس کو کاندھوں پہ لے جا رہے ہیں وسیمؔ اور وہ جینے کا حق مانگتا رہ گیا
Read Moreمیرا گھر ۔۔۔۔۔ ندا فاضلی
میرا گھر ۔۔۔۔۔۔۔ جس گھر میں اب مَیں رہتا ہوں وہ میرا ہے اس کے کمروں کی زیبایش اس کےآنگن کی آرایش اب میری ہے مجھ سے پہلے مجھ سے پہلے سے بھی پہلے یہ گھر کس کس کا؟ اپنا تھا کِن کِن؟ آنکھوں کا سپنا تھا کب کب! اس کا کیا نقشہ تھا یہ سب تو کل کا قصہ ہے اس کا آج میرا حصہ آج کے کل بن جانے تک ہی میرا بھی اس سے رشتہ ہے اب اس گھر میں مَیں رہتا ہوں
Read Moreاحمد فراز ۔۔۔۔۔۔ سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیںبہتر تھا اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا، جاناں! پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پا بہ جولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا تم، فراز! اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے …………………………………………… مجموعہ کلام: خوابِ گل پریشاں ہے
Read More