مبشر سعید ۔۔۔۔۔۔۔ راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا

راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا حال میں جان چُکا آنکھ کی تنہائی کا کیسے وہ درد کی شدت کو سمجھ سکتا ہے؟ جس کو اندازہ نہ ہو زخم کی گہرائی کا کارِ دنیا میں لگاؤں تو مسلسل ہی مرے دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے رُسوائی کا غیب سے حضرتِ غالب کی صدا آتی ہے شاعری کام نہیں قافیہ پیمائی کا عاجزی ہم نے بنایا ہے وطیرہ اپنا بسی یہی کام کیا زیست میں دانائی کا رات ہو وصل کی بارش میں نہائی ہوئی رات ہم…

Read More

اور بارش ہے … ابرار احمد

اور بارش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بے کار محبت کی سیہ کاری میں بھیگ جاتا ہوں تو سو جاتا ہوں اور بارش ہے کہ گرتی ہی چلی جاتی ہے بند آنکھوں پہ تھکے اعضا پر شہر نم ناک میں سانسوں سے بھری گلیوں پر نارسائی کی طنابوں سے بندھے جسموں پر اور ناکردہ گناہوں کے تعفن زدہ کپڑوں سے بھرے کوٹھوں پر اور بے انت کے میدانوں میں!

Read More

آرزو لکھنوی

دفعتاً ترکِ تعلق میں بھی رسوائی ہے اُلجھے دامن کو چھڑاتے نہیں جھٹکا دے کر

Read More

سید ظہیر کاظمی ۔۔۔۔۔۔ وہ لمحہ بھی خود میں کتنا پیارا تھا

وہ لمحہ بھی خود میں کتنا پیارا تھا کوزہ گر کے ہاتھ میں جس دم گاراتھا ہم پردیسی، ہم کیا جانیں باغ کے دکھ ہم نے اپنا جیون تھر میں ہارا تھا اب کے ایسا پھول کھلا تھاصحرا میں جس کے رخ سے روشن چاند ستارہ تھا اُن آنکھوں کی وحشت کا کچھ مت پوچھو جن ہاتھوں نے تنہا دشت سنوارا تھا ہم نے اس کی خاطر گھر بھی چھوڑ دیا جس نے ہم کو دشت میں لا کر مارا تھا آئو، دیکھو پھول کھلے ہیں صحرا میں یہ مت…

Read More

برف باری کی رُت ۔۔۔۔۔ فہمیدہ ریاض

برف باری کی رُت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہیں تو کہیں پر تمہارے لبوں نے مرے سرد ہونٹوں سے برفیلے ذرے چنے تھے اسی پیڑ کی چھال پر ہاتھ رکھ کر ہم اک دن کھڑے تھے یہیں برفباری میں ہم لڑکھڑاتے ہوئے جا رہے تھے مہک تازہ بوسوں کی سر میں سمائے ہم آغوشئِ جسم و جاں کے نشے میں گئی برفباری کی رُت اور پگھلتی ہوئی برف بھی بہہ گئی سب یہاں کچھ نہیں اب کہ ہر شے نئی ہے ہٹا کر ردا برف کی گھاس لہرا رہی ہے ہری پتیوں کی…

Read More

یزدانی جالندھری

ڈھل جاتی ہے الفاظ میں تاثیر ہوا کی فن کار  بنا  لیتا  ہے  تصویر ہوا کی

Read More

علی ارمان…… نہیں ہے مشکل کوئی بھی سچ کے بیان جیسی

نہیں ہے مشکل کوئی بھی سچ کے بیان جیسی یقیں کے لہجے میں لکنتیں ہیں گمان جیسی زمین سے پیش آﺅں کس طرح کجروی سے کہاں سے لاﺅں میں گردشیں آسمان جیسی بہت ہی ضدی انا ہے کب ہار مانتی ہے لُٹے ہوئے اک نواب کی آن بان جیسی لہو میں اب بھی کبھی مچلتی ہے کوئی خواہش عذابِ ہجرت میں کٹ چکے خاندان جیسی اُسے چھوا تو بدن میں اک کپکپی سی جاگی کسی پرندے کی پہلی پہلی اڑان جیسی ابھی بھی یادوں کے طاق سے تیر مارتی ہے…

Read More

سوداگر ۔۔۔۔۔ خلیل الرحمن اعظمی

سوداگر ۔۔۔۔۔۔ لو گجر بج گیا صبح ہونے کو ہے دن نکلتے ہی اب میں چلا جاؤں گا اجنبی شاہراہوں پہ پھر کاسۂ چشم لے لے کے ایک ایک چہرہ تکوں گا دفتروں، کارخانوں میں، تعلیم گاہوں میں جا کر اپنی قیمت لگانے کی کوشش کروں گا میری آرامِ جاں! مجھ کو اک بار پھر دیکھ لو آج کی شام لوٹوں گا جب بیچ کر اپنے شفّاف دل کا لہو اپنی جھولی میں چاندی کے ٹکڑے لیے تم بھی مجھ کو نہ پہچان پائیں تو پھر میں کہاں جاؤں گا…

Read More

شکیب جلالی

اک نقرئی کھنک کے سوا کیا ملا شکیب ٹکڑے یہ مجھ سے کہتے ہیں ٹوٹی پلیٹ کے

Read More

زعیم رشید ۔۔۔۔۔۔۔۔ باندھ کر پیاس کو پانی میں لیے پھرتا ہوں

باندھ کر پیاس کو پانی میں لیے پھرتا ہوں عشق کی آگ جوانی میں لیے پھرتا ہوں ایک کردار جو آیا نہ پلٹ کر واپس آج بھی اپنی کہانی میں لیے پھرتا ہوں اس لیے یاد مجھے آتا ہے تو ہر لمحہ خود کو میں تیری نشانی میں لیے پھرتا ہوں رقص کرتے ہوئے ہوجاتا ہوں خوشبو کی طرح خود کو میں رات کی رانی میں لیے پھرتا ہوں اک جدائی کی خزاں ہے کہ جسے صدیوں سے موسم گل کی روانی میں لیے پھرتا ہوں عکس کی موت بنی…

Read More