وہ لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔ جن پر میرا دل دھڑکا تھا، وہ سب باتیں دہراتے ہو وہ جانے کیسی لڑکی ہے تم اب جس کے گھر جاتے ہو مجھ سے کہتے تھے، بن کاجل اچھی لگتی ہیں مری آنکھیں تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیسی ہوں گی اُس کی آنکھیں تنہائی میں چپکے چپکے نازک سپنے بنتی ہو گی تم اب جس کے گھر جاتے ہو، کیا وہ مجھ سے اچھی ہو گی؟ مجھ کو تم سے کیا دلچسپی، میں اک اک کو سمجھاتی ہوں یاد بہت آتے ہو جب…
Read MoreTag: best urdu poetry
عدیم ہاشمی
وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سو میں اُسے محسوس کر سکتا تھا، چھو سکتا نہ تھا
Read Moreشاہد ماکلی ۔۔۔۔۔۔۔ پُل نہ رہا درمیاں، سیلِ خطر رہ گیا
پُل نہ رہا درمیاں، سیلِ خطر رہ گیا کوئی اِدھر رہ گیا، کوئی اُدھر رہ گیا کتنی ہی صبحیں کبھی میرے گریباں میں تھیں آنکھ میں اب تو فقط خوابِ سحر رہ گیا کچھ بھی نہیں رہ گیا جسم میں دل کے سوا راکھ کے اِس ڈھیر میں ایک شرر رہ گیا جس کے در و بست پر میں نے توجہ نہ دی آخر اُسی نقش کا مجھ میں اثر رہ گیا وقت کی لہر اس طرح سب کو بہا لے گئی اب یہ پتہ ہی نہیں، کون کدھر رہ…
Read Moreراتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں ۔۔۔ جون ایلیا
راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو، میں پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا اِن کی لذت اور اذیت سے میں اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا تیز نظر نابیناؤں کی آبادی میں، کیا میں اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں، ہاں میرے خوابوں کو تمھاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے نفرت ہے اِن صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے وہ سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھے سو میرے…
Read Moreاحمد مشتاق
اب شام تھی اور گلی میں رکنا اُس وقت عجیب سا لگا تھا
Read Moreعالمتاب تشنہ ۔۔۔ گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے
گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے ہم ساتھ کے قبیلوں میں ضم کر دیے گئے پہلے نصابِ عدل ہُوا ہم سے انتساب پھر یوں ہُوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے پہلے لہو لہان کیا ہم کو شہر نے پھر پیرہن ہمارے علَم کر دیے گئے ہر دور میں رہا یہی آئینِ منصفی جو سر نہ جھک سکے وہ قلم کر دیے گئے اِس دورِ نا شناس میں ہم سے عرب نژاد لب کھولنے لگے تو عجم کر دیے گئے جب درمیاں میں آئی کمالِ بشر…
Read Moreکیا روگ لگا بیٹھے ۔۔۔ اختر شیرانی
کیا روگ لگا بیٹھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا روگ لگا بیٹھے دِل ہم کو لُٹا بیٹھا، ہم دل کو لُٹا بیٹھے کیا روگ لگا بیٹھے مِٹ جائے یہ سینے سے اِس عشق میں جینے سے، ہم ہاتھ اُٹھا بیٹھے کیا روگ لگا بیٹھے دم عشق کا بھرتے ہیں ہم یاد اُنہیں کرتے ہیں، وہ ہم کو بُھلا بیٹھے کیا روگ لگا بیٹھے لِکھّا تھا یہ قسمت میں آخر کو محبّت میں، ہم جان گنوا بیٹھے کیا روگ لگا بیٹھے!
Read Moreریاض خیر آبادی
توبہ کر کے آج پھر پی لی ریاض کیا کیا کم بخت! تو نے کیا کیا
Read Moreابوطالب انیم ۔۔۔۔۔۔۔ تو کیا سرہانے نیا کوئی قہقہہ اگا ہے
تو کیا سرہانے نیا کوئی قہقہہ اگا ہے جو دکھ اچانک ہی پائنتی سے لگا کھڑا ہے زمین پایوں سے کھاٹ کے چڑھ رہی ہے ایسے کہ جیسے سارا فلک مجھی پر جھکا ہوا ہے عصا کو دیمک نگل رہی ہے میں جان بیٹھا کمر سے پہلے ہی حوصلہ ٹوٹنے لگا ہے ہر ایک آواز ذہن میں کھولتی ہے کھڑکی جو گیت وادی میں بہہ رہا ہے وہ دکھ رہا ہے یہ کیسی کھائی ہے جس میں گر کر میں اُڑ رہا ہوں زمیں سے پہلے ہواؤں کو میں نے…
Read Moreآئینوں کے درمیاں ۔۔۔ ثمینہ راجا
آئینوں کے درمیاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئنوں کے درمیاں کٹتی ہے میری زندگی ہر سمت ہے اپنا وجود اور ہر طرف چہرہ مرا اور اپنے ان مانوس چہروں کے ہجومِ بے پنہ میں کس قدر تنہا ہوں مَیں
Read More