خرامِ وقت! میں اتنا تو کام کر سکتا مقامِ عشق پہ تھوڑا قیام کر سکتا مِرے قلم کی گرہ کھل نہیں سکی، ورنہ میں اپنے خواب زمانے میں عام کر سکتا مجھے جو ملتی فراغت تو شام سے پہلے میں روشنی کا کوئی انتظام کر سکتا جمالِ یار نہ ہوتا تو عین ممکن تھا میں اپنے ہونے کا بھی اہتمام کر سکتا نواحِ دشت میں کوئی جگہ نہیں ہے جہاں ذرا سی دیر مسافر قیام کر سکتا اگر پرند ۔۔۔ مِرے جسم پر اُتر آتے میں سینہ تان شجر سے…
Read MoreMonth: 2020 فروری
محمد علوی
پڑا تھا مَیں اک پیڑ کی چھائوں میں لگی آنکھ تو آسمانوں میں تھا
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔۔۔۔۔ آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں
آفس میں بھی گھر کو کھلا پاتا ہوں میں ٹیبل پر سر رکھ کر سو جاتا ہوں میں گلی گلی میں اپنے آپ کو ڈھونڈتا ہوں اک اک کھڑکی میں اس کو پاتا ہوں میں اپنے سب کپڑے اس کو دے آتا ہوں اس کا ننگا جسم اٹھا لاتا ہوں میں بس کے نیچے کوئی نہیں آتا پھر بھی بس میں بیٹھ کے بے حد گھبراتا ہوں میں مرنا ہے تو ساتھ ساتھ ہی چلتے ہیں ٹھہر ذرا، گھر جا کے ابھی آتا ہوں میں گاڑی آتی ہے لیکن آتی…
Read Moreدستک ۔۔۔۔۔ محمد علوی
دستک ۔۔۔۔۔۔ اب بھی تنہائی میں کبھی دل کے سونے گوشے میں اک آہٹ سی ہوتی ہے کچھ کھٹ کھٹ سی ہوتی ہے جیسے رات گئے کوئی بِھڑے ہوئے دروازے پر دھیرے دھیرے دستک دے دیکھو تو کوئی نہ ملے!
Read Moreآشفتہ چنگیزی
چلے چلیں گے زمانے کے ساتھ بھی اک دن قبول کرنا پڑے گی یہ مات بھی اک دن
Read Moreآشفتہ چنگیزی ۔۔۔۔۔ گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے
گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے تمام دریا کسی روز ڈوب جائیں گے دعائیں، لوریاں، مائوں کے پاس چھوڑ آئے بس ایک نیند بچی ہے، خرید لائیں گے سفر تو پہلے بھی کتنے کیے، مگر اس بار یہ لگ رہا ہے کہ تجھ کو بھی بھول جائیں گے الاؤ ٹھنڈے ہیں، لوگوں نے جاگنا چھوڑا کہانی ساتھ ہے لیکن کسے سنائیں گے سنا ہے، آگے کہیں سمتیں بانٹی جاتی ہیں تم اپنی راہ چنو، ساتھ چل نہ پائیں گے ہمارے نقش مٹانا…
Read Moreکب لوٹو گے ۔۔۔۔۔۔ آشفتہ چنگیزی
کب لوٹو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نہ کہتی تھی! تم چلے جائو گے اور تم چلے بھی گئے گرمیوں کی مختصر راتیں کس قدر طویل ہونے لگی ہیں چھڑکائو سے اٹھی آنگن کی سوندھی خوشبو رات کی رانی، بیلا اور جوہی یہ سب بھی تم اپنے ساتھ ہی لیتے گئے نومبر ختم پر ہے ٹھٹھرے دسمبر کی پہاڑ راتیں آنے والی ہیں کھٹی املیاں کھاتی، چہل کرتی پڑوسنوں کو اون کے گولے اور سلائیاں لیے دھوپ سینکتے دیکھتی رہتی ہوں نرملا کو نواں مہینہ لگا ہے اس کا پتی اسے روز…
Read Moreیوسفِ ہندی قیدِ فرنگ میں (حالاتِ قیدِ غالب) ۔۔۔۔۔۔۔۔ محسن بن شبیر
یوسفِ ہندی قیدِ فرنگ میں حالاتِ قیدِ غالب از محسن بن شبیر DOWNLOAD
Read Moreساقی فاروقی
ثابت قدم عجیب ہیں، آنکھیں تری شبیہ سے خالی ہوئیں تو روح میں بھر کے اُمنگ آ گئے
Read Moreفرحان کبیر ۔۔۔۔۔۔ دل کو پژمردہ و بیمار نہیں چاہتے ہم
دل کو پژمردہ و بیمار نہیں چاہتے ہم مختصر کہتے ہیں، بسیار نہیں چاہتے ہم کتنے دروازے کھلیں مسکنِ جاں تک آتے اور اس کو بھی ہَوادار نہیں چاہتے ہم! مُوند لیں کس طرح آنکھوں کو، سمندر میں ہیں اور جانا ابھی اُس پار نہیں چاہتے ہم بُت بنا لیتے ہیں، بارش کا، کبھی بادل کا اُس کی رحمت ہو نمودار، نہیں چاہتے ہم! گُونج اُٹھنا تو الگ بات ہے، فرحان، یہاں اپنے ہونے کا بھی اقرار نہیں چاہتے ہم
Read More