انتظار ۔۔۔۔۔ محمد علوی

انتظار ۔۔۔۔ اُسی رہگذر پر جہاں سے گزر کر نہ واپس ہوئے تم بچارا صنوبر جھکائے ہوئے سر اکیلا کھڑا ہے!

Read More

سید علی مطہر اشعر

دیوانے ہی وحشت سے منسوب نہیں ہیں ایسی باتیں ہم بھی اکثر کر دیتے ہیں

Read More

نئے گھر کی پہلی نظم ۔۔۔۔۔ ندا فاضلی

نئے گھر کی پہلی نظم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چار دیواروں پہ چھت باندھ کے جب وہ اُترا جسم تھا اُس کا پسینے سے شرابور مگر اس کو آرام کی مہلت نہ ملی گھر کی دیواروں نے دیواروں کی زینت کے لیے نیلے آکاش میں اُڑتے ہوئے اس کے سر کو ایک کمرہ میں مقفل کر کے اس کے بے سر کے بدن کے اوپر ساز و سامان کی فہرست لگا دی ایسے کوئی ڈھلوان پر پہیے کو گھما دے جیسے دیکھتے دیکھتے ٹی وی فرج صوفہ بن کے آدمی کھو گیا عزت…

Read More

عبدالحمید عدم ۔۔۔۔ وہ جو اُس آنکھ کی کہانی ہے

وہ جو اُس آنکھ کی کہانی ہے لہر ہے، گیت ہے، جوانی ہے غم اگر دِل کو راس آجاۓ شادمانی ہی شادمانی ہے حادثہ ہے کہ تیری آنکھ کا بھی رنگ، اے دوست! آسمانی ہے ہاۓ تقریر اُن نگاہوں کی جن کا ٹھہراؤ بھی روانی ہے کیسا پرلطف ہے یہ ہنگامہ کیسی دلچسپ زندگانی ہے جو الم ہے وہ اتفاقی ہے جو خوشی ہے وہ ناگہانی ہے آؤ، پُھولوں کی آگ پی جاؤ دَورِ صہباۓ ارغوانی ہے دیکھنا زرد بیل کی جانب جیسے کوئی اُداس رانی ہے رنج سے عِشق…

Read More

محمد مختار علی ۔۔۔۔۔۔ دشت میں اشک فشانی کی نمائش نہیں کی

دشت میں اشک فشانی کی نمائش نہیں کی ریت پر بیٹھ کے پانی کی نمائش نہیں کی وقت ہر چیز کو مٹی میں ملا دیتا ہے اِس لیے ہم نے جوانی کی نمائش نہیں کی چاند کو گھر سے نکلنے میں جو تاخیر ہوئی رات نے رات کی رانی کی نمائش نہیں کی دَرد کے معجزے ہوتے ہیں لُغت سے آزاد میرؔ نے حسنِ معانی کی نمائش نہیں کی اِک غزل لکھ کے بہا دی ہے ندی میں مختارؔ پر طبیعت کی رَوانی کی نمائش نہیں کی

Read More

ابہام ۔۔۔۔۔ نعیم رضا بھٹی

ابہام ۔۔۔۔۔ جہاں پسماندگاں تفریح سے تسکین پاتے ہوں جہاں بیدار آنکھوں سے سیاہی پھوٹ بہتی ہو وہاں پرکھوں کی دانائی ہرے شبدوں میں ڈھل کر لو نہیں دیتی اگر تم ٹاٹ کے پردے میں ریشم کو رفو کرنے میں ماہر ہو تو میری روح کے بخیوں کو سینے میں تردد کر نہیں سکتے مری نظروں سے اپنی ماتمی آنکھیں چراؤ گے تو میں لفظوں کے نشتر تم پہ پھینکوں گا اگر تم لا کی موجودی میں گھنگھرو باندھنے کو عشق کہتے ہو تو رقاصہ کے قدموں میں خدا کا…

Read More

احمد حسین مجاہد

میں یہاں آخری مسافر ہوں اک نظر دیکھ لوں سرائے کو

Read More

ڈاکٹر عابد سیال ۔۔۔۔۔۔ جو میسر ہے یہاں،اِتنا بھی اُس پار نہ ہو!

جو میسر ہے یہاں،اِتنا بھی اُس پار نہ ہو! ایسی جلدی میں اُدھر جانے کو تیار نہ ہو! دیکھ سوداگریِ دنیا کہ کچھ دیر کے بعد تُو طلب گارِ تماشا ہو تو بازار نہ ہو پیچ پڑتا ہے ابھی ریت میں اور پائوں میں جس کنارے پہ لگا ہوں، کہیں منجدھار نہ ہو سرخیِ صبح سے سہمائے گئے خواب اور اَب آنکھ بیدار نہ ہو، صبح نمودار نہ ہو یہ عجب لوگ ہیں، دیتے ہیں تو اتنی تکریم کچھ کو منظور نہ ہو، کچھ کو سزاوار نہ ہو یوں اتاریں…

Read More

انور شعور

میں ازرہِ خلوص و وفا اُس کے ساتھ ہوں جو ازرہِ خلوص و وفا میرے ساتھ ہے

Read More

ساحرِاعظم ۔۔۔۔۔۔ افتخار شفیع

ساحرِاعظم (استاد مکرم ڈاکٹرعبدالعزیز ساحر) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ ظاہر تو معلّم ہیں کتابیں ان کے حجرے میں کھڑی دربان لگتی ہیں سخن جب آزماتے ہیں عجب دھونی رماتے ہیں وہ اپنے سرمئی ہونٹوں کو جنبش دیں تو لگتاہے دھویں کا اژدہا کمرے کی بک شیلفوں کو چھو کر شہر کے سر سبز منظر کو نگل جائے جلالی اور جمالی معرفت کا عکس ہیں یعنی ۔۔۔ (کلیجہ کٹ کے رہ جائے) جلالی معرفت درویش کی جب عود کر آئے تو کمرے میں اچانک آکسیجن کا تناسب گھٹ کے رہ جائے مگر جب…

Read More