موت سے زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی روشنی خاک میں تحلیل نہیں ہو سکتی
Read MoreCategory: م
نجیب احمد
مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا
Read Moreبابو لاڈلی لال فائق
مر گئے ہم اسی تمنا میں دل کی باتیں سنا کرے کوئی
Read Moreمحسن اسرار
مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے مگر یہ حال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے
Read Moreاحمد حسین مائل
میرا سلام عشق علیہ السلام کو خسرو اِدھر خراب، اُدھر کوہکن خراب
Read Moreخالد احمد
مسمار کر چلے ، مرے معمار کیوں مجھے کچھ نقص مجھ میں تھا کہ مرے بانیوں میں تھا
Read Moreراحت اندوری
اجنبیت کی بستی میں بقا کی تمنا لیے، شاعر نے دشمنوں کے درمیان دل تھام کر قدم رکھا ہے۔
جہاں ہمدردوں کی گنتی انگلیوں پر ہو، وہاں ہر سانس بھی گویا جرأتِ اظہار کا استعارہ بن جاتی ہے۔
ادا جعفری
اس شعر میں ادا جعفری نے ہوائے مست و مدہوش کو اس دلآویز انداز سے مصور کیا ہے گویا فطرت خود ساغر و مینا تھامے، کیف و نشاط کا جام لُٹا رہی ہو۔
یہ صرف بادِ نسیم کی خرامی نہیں، بلکہ روحِ کائنات کی نازنیں سرشاری ہے جو اپنے جلو میں وجدانی مسرّت، جمالی لطافت، اور حیات آفرینی لیے بہہ رہی ہے۔
شاعرہ کی نگاہِ حسّاس نے موسم کے معمولی جھونکوں کو عالمِ وجدان کی شرابِ ناب میں بدل کر پیش کیا ہے، جہاں فطرت کی ہر سانس گویا رقصِ لطافت بن گئی ہو۔
یہ شعر محض موسم کی منظرکشی نہیں بلکہ باطنی سرمستی اور نسائی شعورِ جمال کا ایک لطیف اظہاریہ ہے، جو قاری کو کیف و سکوت کے حسین کنارے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
ادا جعفری کی شعری حسیّت یہاں نازک خیالی، رمز و کنایہ، اور باطن افروزی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر جلوہ گر ہے، جہاں ہر لفظ مچلتی خوشبو کی مانند قاری کی روح پر دستک دیتا ہے۔
خالد احمد
مجھے بسنے نہ دے خالد مگر دستک تو دینے دے ترا دَر بن سکے گا میرا گھر آہستہ آہستہ
Read Moreمحسن نقوی
میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں
Read More