رُتوں کے قافلے چلتے رہیں گے دکھ اپنے وقت پر پَھلتے رہیں گے
Read MoreCategory: ر
روحی کنجاہی
کانٹوں سے الجھنے کی خواہش بھی نہیں رکھتے پھولوں سے محبت کا اظہار بھی کرنا ہے
Read Moreنسیمِ سحر
روابط دھوپ سے ہیں اب تمہارے بہت بے سائبانی ہو گئی کیا
Read Moreقابل اجمیری
رخصتِ دوست پہ قابلؔ دلِ مایوس کو دیکھ اک سفینہ ہے کہ ساحل سے جدا ہوتا ہے
Read Moreحنیف فوق
رات کی بات ہی کیا رات گئی بات گئی رات کے خواب کہیں دن کو نظر آتے ہیں
Read Moreقابل اجمیری
رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبۂ خاموشِ عشق وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے
Read Moreقابل اجمیری
راہ پرخار ہے اور رات اندھیری قابلؔ دور تک کوئی چراغِ رخِ زیبا بھی نہیں
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read Moreریاض خیر آبادی
روٹھے ہوئے بھی چھیڑ کے سنتے ہیں میرے شعر میرے کلام میں ہے مزا بول چال کا
Read More