روشنی دینے لگے تھے مری آنکھوں کے چراغ رات تکتا تھا سمندر مجھے حیرانی سے
Read MoreCategory: ر
سید آل احمد
رنجِ سکوں تو ترکِ وفا کا حصہ تھا سوچ کے کتنے پھول کھلے خمیازے سے
Read Moreآرزو لکھنوی
رس ان آنکھوں کا ہے کہنے کو ذرا سا پانی سینکڑوں ڈوب گئے پھر بھی ہے اتنا پانی
Read Moreخالد احمد
رُتوں کے قافلے چلتے رہیں گے دکھ اپنے وقت پر پَھلتے رہیں گے
Read Moreروحی کنجاہی
کانٹوں سے الجھنے کی خواہش بھی نہیں رکھتے پھولوں سے محبت کا اظہار بھی کرنا ہے
Read Moreنسیمِ سحر
روابط دھوپ سے ہیں اب تمہارے بہت بے سائبانی ہو گئی کیا
Read Moreقابل اجمیری
رخصتِ دوست پہ قابلؔ دلِ مایوس کو دیکھ اک سفینہ ہے کہ ساحل سے جدا ہوتا ہے
Read Moreحنیف فوق
رات کی بات ہی کیا رات گئی بات گئی رات کے خواب کہیں دن کو نظر آتے ہیں
Read Moreقابل اجمیری
رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبۂ خاموشِ عشق وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے
Read Moreقابل اجمیری
راہ پرخار ہے اور رات اندھیری قابلؔ دور تک کوئی چراغِ رخِ زیبا بھی نہیں
Read More