اس نے اقرار کیا ہے مگر انکار کے ساتھ سلسلہ جڑ تو گیا حسنِ طرح دار کے ساتھ صاحبِ دل ہیں‘ کوئی رُت ہو‘ بھرم رکھتے ہیں اپنا رشتہ ہے ازل سے رسن و دار کے ساتھ اب کسے تن پہ سجائے گا کڑی دھوپ میں پیڑ ٹوٹ کر پتے لگے بیٹھے ہیں دیوار کے ساتھ اِک ذرا دیر ٹھہر جا بت خاموش مزاج! نطق زنجیر تو کر لوں لبِ اظہار کے ساتھ عمر بھر کس نے اصولوں کو ترازو رکھا کون رُسوا ہوا اس شہر میں کردار کے ساتھ…
Read MoreTag: اردو شاعری
حفیظ جونپوری ۔۔۔ منہ مرا ایک ایک تکتا تھا
منہ مرا ایک ایک تکتا تھا اس کی محفل میں میں تماشا تھا ہم جو تجھ سے پھریں خدا سے پھریں یاد ہے کچھ یہ قول کس کا تھا وصل میں بھی رہا فراق کا غم شام ہی سے سحر کا کھٹکا تھا اپنی آنکھوں کا کچھ قصور نہیں حسن ہی دل فریب اس کا تھا فاتحہ پڑھ رہے تھے وہ جب تک میری تربت پر ایک میلا تھا نامہ بر نامہ جب دیا تو نے کچھ زبانی بھی اس نے پوچھا تھا اب کچھ اس کا بھی اعتبار نہیں…
Read Moreمقبول عامر
سفر پہ نکلیں مگر سمت کی خبر تو ملے کوئی کرن کوئی جگنو دکھائی دے تو چلیں
Read Moreجون ایلیا
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے ……… Cette vie qu’on ne pouvait même pas vivre,C’est pourtant celle qu’on a dû survivre. …… Ein Leben, das kaum zu tragen war,Und doch lebten wir’s – Jahr für Jahr. …. 那段无法承受的人生,我们却一步步走了过来。 …. 生き抜けないと思った日々も、それでも僕らは生きてきたんだ。 ….. जो जी नहीं सके हम जैसे,उन्हीं पलों को हमने जिया वैसे।
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا
عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا بندگی میں کیا سے کیا یہ سر نگوں کرنا پڑا مِنّتِ ساحل بھی سر لے لی بھنور میں ڈولتے ہاں یہ حیلہ بھی ہمیں بہرِسکوں کرنا پڑا سامنے اُس یار کے بھی اور سرِ دربار بھی ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا لیا وُوں نہ کچھ ماجد ہُوا ہم سے…
Read Moreشاہین عباس
یوں جو دروازے بج رہے ہیں یہاں گھر سے اُٹھّاہے بے گھری کا شور
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ منزہ احتشام گوندل
منزہ احتشام گوندل منزہ احتشام گوندل ضلع سرگودھا کے ایک قصبے میں ۱۹۸۴ء میں پیدا ہوئیں۔اُن کی تخلیقات اِس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ایک صاحبِ مطالعہ خاتون ہیں۔درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔نسائی ادب کے حوالے سے اُن کا تحقیقی کام بھی اہم ہے۔ترقی پسند تنقید بھی اُن کی تحقیق کا موضوع ہے۔ نثری اورآ زاد نظموں کا ایک بہترین مجموعہ ’’منزہ نظمیں‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہو چکا ہے۔کچھ عرصہ پہلے اُن کا افسانوی مجموعہ ’’آئینہ گر‘‘ بھی زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا۔…
Read Moreجوش ملسیانی
مقبول ہوں نہ ہوں یہ مقدر کی بات ہے سجدے کسی کے در پہ کیے جا رہا ہوں میں
Read Moreاستاد قمر جلالوی ۔۔۔ منتخب اشعار
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیںوہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیںاگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیںتو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیںرقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سےتمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیںوہ ہنس کرکہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوےیہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیںنہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانیکہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے…
Read Moreسیماب اکبر آبادی
پریشاں ہونے والوں کو سکوں کچھ مل بھی جاتا ہے پریشاں کرنے والوں کی پریشانی نہیں جاتی
Read More