شاہین عباس

ہم تھے کہ رات دن کے داغ ، جیسے صدی صدی کے باغ یعنی گزرتے وقت کا ، ہم پہ بہت اثر ہوا

Read More

ماجد صدیقی ۔۔۔ رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں

رہن جن کے عوض ہو متاعِ انا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں میں وہ بد بخت فرزندِ اجداد ہُوں جس کو ورثے میں ہوں التجائیں ملیں دیر تھی گر تو اتنی کہ نکلے نہ تھے بال و پر اور جب یوں بھی ہونے لگا فصل کٹنے پہ کھیتوں سی اُجٹری ہوئی کیا سے کیا کچھ نہ رنجور مائیں ملیں بخت کسبِ سعادت میں بھی کیا کہوں صیدِ اضداد ٹھہرا ہے کچھ اِس طرح دیس ماتا کی خفگی سے رد ہو گئیں ماں کی جانب سے جتنی دعائیں ملیں…

Read More

شاہین عباس

کبھی حیراں، کبھی ویراں ، تو کبھی شاد آباد میں خلل ڈالتا آیا ہوں جہاں میں ایسا

Read More

محسن اسرار

ہوائیں لے گئیں رستے اُڑا کر مسافر پارہ پارہ ہو رہا ہے

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا

آج بھی دھوپ میں ہوں ٹھہرا ہوا ابر کا انتظار کتنا تھا اک الاو تھا رُوٹھنا اس کا مسکراتی تو پھول کھل جاتا دل کے در پر یہ کس نے دستک دی گونج اُٹھا ہے گھر کا سناٹا تیری قربت مری ضرورت تھی یوں تو تو نے بھی خواب دیکھا تھا دو قدم اور ساتھ دے لیتے حوصلہ آپ کا بھی کم نکلا کون صحرا میں دے تجھے آواز کون کھولے طلب کا دروازہ آو قانون کی کتاب پڑھیں اب صحافت میں کچھ نہیں رکھا میرے حصے میں غم کی…

Read More

راز الہ آبادی … آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے

آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے اور کچھ دن یہ دستور مے خانہ ہے، تشنہ کامی کے یہ دن گزر جائیں گے میرے ساقی کو نظریں اٹھانے تو دو، جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے اے نسیم سحر تجھ کو ان کی قسم، ان سے جا کر نہ کہنا مرا حال غم اپنے مٹنے کا غم تو نہیں ہے مگر، ڈر یہ ہے ان کے گیسو…

Read More

شاہین عباس

سننے والوں میں اِتنا پردہ ہے کوئی سنتا نہیں کسی کا شور

Read More

قمر جلالوی ۔۔۔ سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے

سن کے نامِ عشق برہم وہ بتِ خود کام ہے میں نہ سمجھا تھا محبت اس قدر بدنام ہے نامہ بر ان سے نہ کہنا نزع کا ہنگام ہے ابتدائے خط نہیں یہ آخری پیغام ہے چارہ گر میرے سکوں پر یہ نہ کہہ آرام ہے اضطرابِ دل نہ ہونا موت کا پیغام ہے ان کے جاتے ہی مری آنکھوں میں دنیا ہے سیاہ اب نہیں معلوم ہوتا صبح ہے یا شام ہے قافلے سے چھوٹنے والے ابھی منزل کہاں دور تک سنسان جنگل ہے پھر آگے شام ہے آپ…

Read More

مقبول عامر

میری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرے جس نے جو بات بھی کرنی ہے سر عام کرے Qu’on me loue ou bien qu’on me salisseQue tout se dise à voix haute, sans malice Ob Lob, ob Schande – sag’s mir ins GesichtSprich laut und offen – fürchte das Licht ……………………………………………………………………………. 不论赞美还是羞辱我,请当众开口,不要躲躲闪闪说。 ………………………………………………………………………… 褒めるもけなすも構わない、言いたいことは公に言えばいい。 चाहे तारीफ़ करे या बदनाम करे,जो भी कहना है, खुलकर कहे — सबके सामने कहे।

Read More

امن لکھنوی

تمہاری بزم بھی کیا بزم ہے آداب ہیں کیسے وہی مقبول ہوتا ہے جو گستاخانہ آتا ہے

Read More