جوش ملیح آبادی ۔۔۔ یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی

یوں ڈھل گیا ہے درد میں درماں کبھی کبھی نغمے بنے ہیں گریۂ پنہاں کبھی کبھی ہونکی ہیں بادِ صبح کی رو میں بھی آندھیاں ابلا ہے ساحلوں سے بھی طوفاں کبھی کبھی بڑھتا چلا گیا ہوں انہی کی طرف کچھ اور یوں بھی ہوا ہوں ان سے گریزاں کبھی کبھی آنچوں میں گنگناتے ہیں گلزار گاہ گاہ شعلوں سے پٹ گیا ہے گلستاں کبھی کبھی لے سے نکل پڑی ہے کبھی ہچکیوں کی فوج آہیں بنی ہیں راگ کا عنواں کبھی کبھی دامانِ گل رخاں کی اڑا دی ہیں…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی

میں رو رہا ہوں تیری نظر ہے عتاب کی شبنم کو پی رہی ہے کرن آفتاب کی بجھنے پہ دل ہے سانس میں بھی ضابطہ نہیں ظالم دہائی ہے ترے زورِ شباب کی منظور ہے خدا کو تو پہنچوں گا روزِ حشر چہرے پہ خاک مل کے درِ بوتراب کی صورت پرست میری نگاہوں نے اصل میں دل کیا مرے وجود کی مٹی خراب کی ہر پنکھڑی کے طاق میں ہنس ہنس کے صبح کو شمعیں جلا رہی ہے کرن آفتاب کی

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک

للہ الحمد کہ دل شعلہ فشاں ہے اب تک پیر ہے جسم مگر طبع جواں ہے اب تک برف باری ہے مہ و سال کی سر پر لیکن خون میں گرمئ پہلوئے بتاں ہے اب تک سر پہ ہر چند مہ و سال کا غلطاں ہے غبار فکر میں تاب و تبِ کاہکشاں ہے اب تک کب سے نبضوں میں وہ جھنکار نہیں ہے پھر بھی شعر میں زمزۂ آبِ رواں ہے اب تک للہ الحمد کہ دربارِ خرابات کی خاک سرمۂ دیدۂ صاحب نظراں ہے اب تک زندگی کب…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ نہ چھیڑ شاعر رباب رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے

نہ چھیڑ شاعر ربابِ رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ داں نہیں ہے تری نواسنجیوں کے شایاں فضائے ہندوستاں نہیں ہے تری سماعت نگارِ فطرت کے لحن کی راز داں نہیں ہے وگرنہ ذرہ ہے کون ایسا کہ جس کے منہ میں زباں نہیں ہے اگرچہ پامال ہیں یہ بحریں مگر سخن ہے بلند ہمدم نہ دل میں لانا گمانِ پستی مری زمیں آسماں نہیں ہے ضمیرِ فطرت میں پر فشاں ہے چمن کی ترتیبِ نو کا ارماں خزاں جسے تو سمجھ رہا ہے وہ در حقیقت خزاں نہیں ہے حریمِ…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔۔ اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے

اپنے میں جو اب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے حالات پہ میرے کر کے نظر دل مجھ سے بہت شرماتا ہے الجھن میں یکایک ہوتی ہے دم رکتا ہے دل بھر آتا ہے جب کوئی تسلی دیتا ہے کچھ اور بھی جی گھبراتا ہے آرام سرکنے والا ہے کس شے پہ یہ غرہ ہے تجھ کو دنیا یہ بدلنے والی ہے کس چیز پہ تو اِتراتا ہے اعلان سحر کو ہوتا ہے یوں حسن کی شاہنشاہی کا گردوں پہ سنہرا اک پرچم مشرق کی طرف لہراتا ہے…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ یہ نصیبِ شاعری ہے زہے شانِ کبریائی

یہ نصیبِ شاعری ہے زہے شانِ کبریائی کہ ملے نہ زندگی بھر مجھے دادِ خوش نوائی بخدا عظیم تر ہے شہدا کے خون سے بھی مرے سینۂ قلم میں جو بھری ہے روشنائی یہ عجیب ماجرا ہے کہ خدیوِ ہفت قلزم طرف سراب دوڑے پئے قسمت آزمائی فلک اور اسے جھکائے سرِ منزل سفیہاں ملک آئیں جس کے در پر بہ ہوائے جبہ سائی چمنِ شعور نو کو جو لہو سے اپنے سینچے کبھی اس کو سکھ نہ بخشے کوئی پنجۂ حنائی ہمہ ساز ہوں بظاہر ہمہ سوز ہوں بہ…

Read More

جوش ملیح آبادی ۔۔۔ کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم

کوئی دارائے جاں ہے کیا معلوم یا فقط داستاں ہے کیا معلوم کیا حدودِ یقیں میں ہے خلاق یا سراسر گماں ہے کیا معلوم آرزو تھی خدا کو یا حاجت کیوں وجودِ جہاں ہے کیا معلوم لہو یا خود میں نقص کا احساس علتِ انس و جاں ہے کیا معلوم اضطراراً کہ بعدِ فکرِ دقیق خلعت‌ِ ایں و آں ہے کیا معلوم کس لئے کس طرف بہر ساعت رخشِ ہستی رواں ہے کیا معلوم کس خلائے نظر کے بھرنے کو یہ زمیں آسماں ہے کیا معلوم ہے کہیں آفتابِ ذات…

Read More

ناصر زیدی نمبر ۔۔۔ جنوری، فروری 2020ء

ناصر زیدی نمبر DOWNLOAD

Read More