خالد احمد ۔۔۔۔۔ دُھوپ کی، ریت کی، تنہائی کی، ویرانی کی

دُھوپ کی، ریت کی، تنہائی کی، ویرانی کی ہم نے اِک عمر ترے غم کی نگہبانی کی سایۂ دار اِدھر، سایۂ دیوار اُدھر چھائوں ڈھلتی ہی نہیں جرمِ تن آسانی کی عشق کاغذ کو بھی دیمک کی طرح چاٹ گیا خاک چھانے نہ ملی، دھاک سخن دانی کی صبح سے، شامِ شفق رنگ کا رستہ پوچھا راہ تکتی رہیں آنکھیں تری طغیانی کی یہ کرم آپ کیا اہلِ رضا پر، تُو نے ہمیں زحمت ہی نہ دی سلسلہ جنبانی کی

Read More

رحمان باباؒ کے لیے ۔۔۔ خالد احمد

رحمان باباؒ کے لیے رہی گُل گوں، جمالِ جسم کی ضَو رات بھر کھلی آنکھوں سے دیکھی پھوٹتی پَو، رات بھر کئی شمعیں سرِ طاقِ شبستاں جل بجھیں پڑی مدھم نہ میرے پیار کی لَو، رات بھر O عروسِ مے پسِ پیراہنِ مینا رہی مگر وجہِ نشاطِ دیدۂ بینا رہی برہنہ چشم ناظر تھا، فرازِ طور پر گرفتہ خواب، خاکِ وادیٔ سینا رہی O شرارِ عشقِ رُخ کو حُسن کا لپکا دیا مرے مولا نے میرا غم مجھے لوٹا دیا صراحی سے اُنڈیلیں برکتیں کس آن کی پیالہ بھر دیا…

Read More

خالد احمد

محیطِ حلقۂ آزار دیکھ لیتے ہیں ہم اپنا دائرۂ کار دیکھ لیتے ہیں ہوا کی چال، ستاروں کا رُخ، سکوت کی سمت چراغ، صبح کے آثار دیکھ لیتے ہیں عجائباتِ محبت، تبرکاتِ وفا اب آ گئے ہیں تو اے یار! دیکھ لیتے ہیں یہ دل، یہ زاویۂ غم، یہ گوشۂ حسرت تری نظر سے ہم اک بار دیکھ لیتے ہیں نوازشات و عنایاتِ یار سے پہلے ہم اپنا پیرہنِ تار دیکھ لیتے ہیں قدم گرفتہ، مثالِ غبار بیٹھ رہے بس اُٹھ کے محملِ زرتار دیکھ لیتے ہیں ہم اُس گلی…

Read More

خالد احمد

ہاتھ سے لَے نکل گئی، شور میں ضربِ ذات   کے ہم ہی تو گُر تھے، ہم ہی سَم، زمزمۂ حیات   کے کوئی مہک نہ چن سکا، کوئی چٹک نہ سن سکا پھول بھلا دکھائے کیا؟ بھائو سبھائو ذات   کے گھر میں نہ اک چھدام تھا، چاند چراغِ بام تھا چاند کی چھائوں دھر دیا، ہم   نے بھی سوت کات   کے ہم تھے گرفتہ سر اگر، تم تھے شکستہ پر، مگر چل دیے ہاتھ ڈال کر، ہاتھ میں کائنات   کے رقص شعار ہو گئے، رزقِ مدار ہو گئے ہم تو فقط…

Read More

خالد احمد

یہ میں نہیں، مرا پَرتَو نہیں، یہ میں تو نہیں گماں سا کیوں مجھے گزرا؟ کہیں یہ میں تو نہیں مری طرح کہیں شائستۂ وفا ہی نہ ہو وہ شخص کتنا حسیں ہے، کہیں یہ میں تو نہیں کسی نگاہ کے بس کی رہی یہ لَو نہ یہ ضَو چراغ سا ہے تہِ آستیں، یہ میں تو نہیں دیارِ دل میں رُلانے پہ کون روتا ہے یہ سب ہیں اہلِ غم اپنے تئیں، یہ میں تو نہیں نہ ذکرِ سروِ چراغاں، نہ فکرِ طاق و رواق نہ ماہ، رُوکشِ داغِ…

Read More