عابد سیال

رہا نہ اک ذرا تسکین کا یہ پہلو بھی زمانہ درپئے آزار تھا اور اب تو بھی!

Read More

خرم آفاق ۔۔۔۔۔ کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا

کوشش کے باوجود بھی ساکن نہیں رہا کچھ دن میں سامنے رہا، کچھ دن نہیں رہا پہلے یہ ربط میری ضرورت بناؤ گے اور پھر کہو گے رابطہ ممکن نہیں رہا ہم ایک واردات سے تھوڑے ہی دور ہیں وہ ہاتھ لگ گیا ہے مگر چھن نہیں رہا اسکول کے دنوں سے مجھے جانتے ہو تم میں آج تک سوال کیے بن نہیں رہا اک رات اس نے چند ستارے بجھا دیے اُس کو لگا تھا کوئی انھیں گن نہیں رہا

Read More

ڈھونگ ۔۔۔۔۔۔ کاشف رحمان

ڈھونگ ۔۔۔۔۔۔ آج میں یہ دیکھ سکتا ہُوں کہ گُل مُجھ سا بننا چاہتے ہیں! گُل، سنہرے اور درخشاں وحشتِ فرطِ جنوں میں رقص کرتے، جھومتے! بے خودی کی موج میں دستِ صبا کو چومتے! گُل، خمیدہ سر،ملائم!سرکش و مغرور گُل! اختیار و جبر کے مدّ و جزر سے چُور گُل! گُل نڈر، بے خوف، پر ہارے ہُوئے، بے بس و لرزش بجاں گُل، ہجر کے مارے ہُوئے! گُل، تپاں لیکن سدا محوِ دُعا اپنے پتے بازوؤں کی مثل پھیلائے ہوئے اپنی اپنی ذات میں کھوئے ہُوئے بے تقاضا، بے…

Read More

بانی ۔۔۔۔۔ تھی اپنی اک نگاہ کہ جس سے ہلاک تھے

تھی اپنی اک نگاہ کہ جس سے ہلاک تھے سب واقعے ہمارے لیے دردناک تھے اندازِ گفتگو تو بڑے پر تپاک تھے اندر سے قربِ سرد سے دونوں ہلاک تھے ٹوٹا عجب طرح سے طلسمِ سفر کہ جب منظر ہمارے چار طرف ہولناک تھے اب ہو کوئی چبھن تو محبّت سمجھ اسے وہ ربط خود ہی مٹ گئے جو غم سے پاک تھے ہم جسم سے ہٹا نہ سکے کاہلی کی برف جس کی تہوں میں خواب بڑے تابناک تھے

Read More

یونس خیال

ہمارے دور کے حالات جانچنے والے قدم قدم پہ لکھا اضطراب دیکھیں گے

Read More

ایک آسمانی لمحہ ….. معین نظامی

ایک آسمانی لمحہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج تو آسماں اس قدر صاف ہے جس قدر میرے بچپن کی صبحوں میں ہوتا تھا اور بیچ کے تیس برسوں میں مَیں نے اسے اتنا شفاف دیکھا نہیں بیچ کے تیس برسوں میں لگتا ہے دنیا میں صبحیں نہیں تھیں زمیں پر مرے جسم و جاں کی کثافت تھی اور آسماں جیسے تھا ہی نہیں آج تو آسماں اپنی بھرپور نیلاہٹوں کی معیت میں موجود ہے آسماں صاف ہے اور حدِ نظر تک کہیں کوئی بادل کا ٹکڑا نہیں ہے زمیں پر مرے جسم و…

Read More

جہاں بھی ہم چلے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔ ممتاز اطہر

جہاں بھی ہم چلے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہاں بھی ہم چلے جائیں کوئی دجلہ ،کوئی راوی وریدوں میں ہماری سانس لیتا ہے چراغوں سے بھرے بجرے ہمارے ساتھ بہتے ہیں کناروں پر بچھے ابرق میں تاروں کا پڑائو اور لہو میں خواہشوں کا اک الائو جاگتا ہے نئی دنیائوں کا کوئی بہائو جاگتا ہے جہاں بھی ہم چلے جائیں کوئی جنگل بدن میں لہلہاتا ہے کوئی خوشبو نفس میں بھرنے لگتی ہے ہَوا سرگوشیوں میں ناشناسا نام لیتی اور کسی بیتے زمانے کی کتھا تحریر کرتی ہے پرندے اک پرانے شہر…

Read More

افضل خان ۔۔۔۔۔۔ جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں

جو یہ کہتے ہیں کوئی پیشِ نظر ہے ہی نہیں کون سی ذات کے منکر ہیں اگر ہے ہی نہیں پھر جو اس شہر میں آنا ہو تو ملنا مجھ سے گھر کا آسان پتہ یہ ہے کہ گھر ہے ہی نہیں بے ارادہ ہی ترے پاس چلا آیا ہوں کام کچھ ہو تو کہوں تجھ سے،مگر ہے ہی نہیں اس لیے ہم کو نہیں خواہشِ حوران ِبہشت ایک چہرہ جو اِدھر ہے وہ اُدھر ہے ہی نہیں لفظ سے لفظ مجھے جوڑنا پڑتا ہے میاں میری قسمت میں کوئی…

Read More

نجیب احمد

بچپن کے واقعات سناتا ہے ان دنوں مجھ کو نجیب خوش نظر آتا ہے ان دنوں

Read More

نظم میں خالی جگہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہین عباس

نظم میں خالی جگہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہم نہیں بھر سکے ہیں شکم شاعری کی قسم شاعری کا شکم! ہم نہیں کرسکے حرف اور حرف کو خطّ ِمابین کے ماسوا سے بہم نظم کو ہم خدا سے ملانے چلے اپنے ڈھب کی تجلی میں مصرع اٹھاتے ہوئے اپنی دھج کے یہ سکتے ‘ یہ جھٹکے نگارندہ متن و معانی کے مٹی کے‘ پانی کے سب حاشیے حلق سے تا ورق سالمیت ادق غایت و مد ّعا شہریت کی قضا آدمی کی قسم آدمی کا یہ موجود اور آدمی کے خدا کا…

Read More