ذوالفقار نقوی

کھوجتا کیا ہے اندھیروں میں تفاہم کے دیے آ چراغوں میں لہو ڈال، اجالے ہوں گے

Read More

عزیز فیصل … کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں

کمال یہ ہے کہ کوئی کمال ہوتا نہیں اور اس بساط پہ دل کو ملال ہوتا نہیں مری زبان ہے اتنی گریز حسنِ طلب ہر ایرے غیرے کے آگے سوال ہوتا نہیں زمانہ ساز کچھ ایسے بھی میرے شہر میں ہیں محال کام بھی جن پر محال ہوتا نہیں محبتوں کے کلینڈر میں یہ خرابی ہے کہ ختم ہجر کا کوئی بھی سال ہوتا نہیں حصار ِحسن میں، بندِ ادا میں آئے بغیر کوئی خیال بھی حسنِ خیال ہوتا نہیں اجڑ گئے ہیں کئی پیڑ میری بستی کے بیان مجھ…

Read More

ماجدالباقری

فکرِ معاش جسم سے آرام لے گئی جب تھک گیا تو فرش بھی بستر لگا مجھے

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ تِرا مشورہ مان لوں میں؟

تِرا مشورہ مان لوں میں؟ یہ کھوٹا، کھرا مان لوں میں؟ میں اپنی اکائی کو توڑوں؟ تجھے دُوسرا مان لوں میں؟ فضا میں جو تتلی ہے رقصاں اُسے اپسرا مان لوں میں تری جستجو چھوڑ دوں کیا؟ تُجھے ماورا مان لوں میں؟ ستاروں سے خالی فلک کو ستاروں بھرا مان لوں میں؟ یہ سُوکھا ہوا زرد پتّا اسے کیوں ہَرا مان لوں میں؟ جو ابلیس کہتا ہے مجھ سے بتا، داورا ، مان لوں میں؟

Read More

خورشید رضوی

شاید اسی لیے ہے شوریدگی زیادہ آنے لگا سمندر گُھٹ گُھٹ کے ندّیوں میں

Read More

نسیمِ سحر ۔۔۔ گماں یہ نہ کیجو، بڑا وقت ہے

گماں یہ نہ کیجو، بڑا وقت ہے کہ پھٹتا ہوا چیتھڑا وقت ہے کبھی مان لیتا تھا باتیں مِری اور اب اپنی ضِد پر اَڑا وقت ہے یکایک ہی اُس کی گھڑی رُک گئی جو یہ کہہ رہا تھا، بڑا وقت ہے ! میں لاوقت ہوں اور مشکل میں ہوں مِرے راستے میں پڑا وقت ہے کہیں ٹوٹ جانا تو ہے لازمی کہ دریا میں کچا گھڑا وقت ہے کوئی وقت بھی اتنا اچھا نہ تھا مگر یہ بہت ہی کڑا وقت ہے مری عمر کچھ اِتنی کم بھی نہیں…

Read More

احمد حسین مجاہد

جب علی اکبر کو رخصت دی تو کہتے تھے حسین اب پسِ پردہ شبیہِ مصطفیٰ ہو جائے گی

Read More

عزیز فیصل … سلام

سلام۔۔۔یزید سے ہیں مفادات اس کے وابستہسو اس نے چھوڑ دیا اہلِ بیت کا رستہنہیں ہے مسئلہ اس کا نبی و آل ِنبیکہ فرقہ باز کو درکار ہے فسوں سستارسول ِخیر سے نسبت نہیں ہے نسبت ِعامستم شعار! بہت ہے ترا یقیں خستہجو ریگزار میں آباد کر گئے تھے حسینوہ ایک شہر دلوں میں ہے آج بھی بستااِدھر تھے ابن ِعلی کے فقط بہتر لوگاُدھر تھا جبرو ستم کی سپاہ کا دستہ

Read More

رخسانہ صبا ۔۔۔ تخلیق

 تخلیق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے کا یخ بستہ موسم میرے اندر کی گرمی کو چاٹ چکا تھا آنکھوں کی جھیلوں میں گویا بچھڑی ہوئی یادوں کی کائی جمی ہوئی تھی بستر پر اک بے حس اور انجانی سی چپ گرد کی صورت پڑی ہوئی تھی روح کے آنگن میں پیڑوں کی سوکھی شاخیں دھند میں گم تھیں اور خیالوں کے سرچشمے خشک پڑے تھے ایسے میں اک دستک ابھری کھڑکی کے پٹ کھول کے میں نے باہر دیکھا درد اچانک جاگ اٹھا تھا ایک سنہرے اور تازہ احساس کا آنچل سر پر…

Read More

رخسانہ صبا … چشمِ فردا کے لیے اور تو کیا لائی ہوں میں

چشمِ فردا کے لیے اور تو کیا لائی ہوں میں ہجر کا لمحہِ سفاک اٹھالائی ہوں میں میری آنکھوں میں جو بھردی تھی تری قربت نے بس اسی ریت سے اک دشت بنا لائی ہوں میں جانتی تھی کہ کھلیں گے نہ کبھی بند کواڑ رایگانی کے لیے اپنی صدا لائی ہوں میں کوزہ گر خود مری شوریدہ سری میں گم ہے اپنی مٹی کے لیے چاک نیا لائی ہوں میں تو یہ سمجھا کہ مجھے تیری طلب ہے لیکن تیرے ہونٹوں کے لیے حرف دعا لائی ہوں میں جس…

Read More