رخسانہ صبا

سنا ہے اہلِ دل نایاب ہوتے جارہے ہیں سو ہم بھی رفتہ رفتہ خواب ہوتے جارہے ہیں

Read More

نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔ رخسانہ صبا

نذرانہء نعت روشنی کا سلسلہ ہے آپ کی دہلیز پر بابِ گریہ کھل گیا ہے آپ کی دہلیز پر دل پہ اک آنسو گرا ہے یا مرا احساس ہے اک دیا سا جل اٹھا ہے آپ کی دہلیز پر اسمِ احمد ہے زباں پر روح تک سرشار ہے درد کا کیا ذائقہ ہے آپ کی دہلیز پر پاؤں زخمی ہوکے بھی گردش میں ہیں رکتے نہیں کس بلا کا حوصلہ ہے آپ کی دہلیز پر پھول، خوشبو، رنگ، تتلی، رات، جگنو، صبح و شام جو بھی ہے، محوِ ثنا ہے…

Read More

طارق بٹ … دل  کی  رفتار  زلزلائی  ہوئی

دل  کی  رفتار  زلزلائی  ہوئیاپنے قدموں پہ ڈگمگائی ہوئی درد  نے  طرز    ہے  بنائی  ہوئییہی بندش ہے دل کو بھائی ہوئی سوز خوانی نہ سنیو سینے کیآنکھ مت دیکھ ڈبڈبائی  ہوئی لمحہ    لمحہ ،  کریدتا    گزراآہ : دیوار جاں  یہ ڈھائی ہوئی لاؤ اب ساخت کوئی دل کی نئیبے  دھڑک  سی  نپی نپائی ہوئی

Read More

کاشف مجید ۔۔۔ دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا

دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا ہمیں پکارا گیا اور بہت پکارا گیا ہمارا اور تمہارا ملال ایک سا ہے اِدھر چراغ بجھا اور اُدھر ستارا گیا بہت خلوص سے تونے عطا کیا تھا جو وہ ایک خواب بھی مجھ سے نہیں گزارا گیا عجیب جنگ یہاں پر لڑی گئی جس میں نہ کوئی زندہ بچا اور نہ کوئی مارا گیا مجھے خبر ہے وہ میری طرف بھی دیکھتا تھا مجھے خبر ہے مگر میں نہیں دوبارا گیا

Read More

یونس خیال

پھر کسی آدمی کی آمد تھی پھر فرشتوں پہ خوف طاری تھا

Read More

نذیر قیصر

ستارہ ایک سرائے پہ آ کے ٹھیر گیا دعا تمام ہوئی، راستہ تمام ہوا

Read More

ذوالفقار نقوی … حسن سے تیرے کشیدیں گی سہارا کتنا

حسن سے تیرے کشیدیں گی سہارا کتنا ان بجھی آنکھوں سے ہو گا بھی گزارا کتنا رنگ بھر لائے ہو تصویر میں اتنے ،لیکن اس میں احساس کی نگری کا ہے گارا کتنا سر پہ ہر روز نئی اینٹ ہے لادی جاتی تو نے اے یار! مرا بوجھ اتارا کتنا شہر تَو روز چلی جاتی ہے غازہ مَل کر جانِ من! میرے لئے خود کو سنوارا کتنا ڈوبنے والے نے موجوں سے بس اتنا پوچھا یہ بتا دو کہ ہے اب دور کنارہ کتنا مسئلہ اتنا بڑا تو نہیں تھا…

Read More

آصف شفیع

مَیں چپ ہوں اب اُسے کیسے بتاؤں کوئی اندر سے کیسے ٹوٹتا ہے

Read More

آصف شفیع … صدیوں سے اجنبی

صدیوں سے اجنبی ……………………. اُس کی قربت میں بیتے سب لمحے میری یادوں کا ایک سرمایہ خوشبوئوں سے بھرا بدن اس کا دل کو بھاتا تھا بانکپن اُس کا شعلہ افروز حسن تھا اُس کا دلکشی کا وہ اک نمونہ تھی مجھ سے جب ہمکلام ہوتی تھی خواہشوں کے چمن میں ہر جانب چاہتوں کے گلاب کھلتے تھے اُس کی قربت میں ایسے لگتا تھا اک پری آسماں سے اتری ہو جب کبھی میں یہ پوچھتا اُس سے ساتھ میرے چلو گی تم کب تک مجھ سے قسمیں اُٹھا کے…

Read More

عمران اعوان

سانس لینا محال ٹھہرا ہے تیری محفل میں لوگ اتنے ہیں

Read More