احمد فراز … برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا

برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سااب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا ابرو کھچے کھچے سے، آنکھيں جھکی جھکی سیباتيں رکی رکی سی، لہجہ تھکا تھکا سا الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھےبن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا خوابوں ميں خواب اُس کے، يادوں ميں ياد اُس کینيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے کہ رتجگا سا پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميںوہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديںتازہ…

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے

یاد آؤں گا اُسے‘ آ کے منائے گا مجھے اور پھر ترکِ تعلق سے ڈرائے گا مجھے آپ مسمار کرے گا وہ گھروندے اپنے اور پھر خواب سہانے بھی دکھائے گا مجھے مجھ کو سورج کی تمازت میں کرے گا تحلیل اور مٹی سے کئی بار اُگائے گا مجھے اپنی خوشبو سے وہ مانگے گا حیا کی چادر زیبِ قرطاسِ بدن جب بھی بنائے گا مجھے ربِ ایقان و عطا! عمر کے اس موڑ پہ کیا راستے کرب کے ہموار دکھائے گا مجھے میں کڑی دھوپ کا سایہ ہوں کڑے…

Read More

محمد یعقوب آسی ۔۔۔ ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں)

ہوا لے گئی مجھے (طارق اقبال بٹ کی ’’صداے موسمِ گل‘‘ کے تعاقب میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان میں انگریز راج کا رسمی ہی سہی خاتمہ ہوتا ہے۔ کروڑوں اسلامیانِ ہند کے دلوں کی دھڑکنیں روح و بدن میں سنسنا اٹھتی ہیں، قافلوں کے قافلے آرزوؤں اور امنگوں کا زادِ سفر لئے اپنے کھیتوں، حویلیوں، کارخانوں کو تج کر سرزمینِ پاکستان کی طرف نکل پڑتے ہیں، یہ جانے سوچے بغیر کہ وہاں پہنچ کر جانے کیسے حالات پیش ہوں، کن لوگوں سے پالا پڑے۔ پاکستان کا مطلب کیا؛ لاالٰہ الا اللہ! یہی…

Read More

اظہر فراغ ۔۔۔ غزلیں

اسی لیے ترے دعووں پہ مسکرا رہے ہیںہم اپنا ہاتھ تری پشت سے اٹھا رہے ہیں وہ خود کہاں ہے جو نغمہ سرا ہے صدیوں سےیہ کون ہیں جو فقط اپنے لب ہلا رہے ہیں ہوئے ہیں دیر سے ہموار زندگی کے لیےضرور ہم کسی لشکر کا راستہ رہے ہیں ابھی کسی کی خوشی میں شریک ہونا ہےابھی کسی کے جنازے سے ہو کے آ رہے ہیں بس اپنی خوش نظری کا بھرم رکھا ہوا ہےشکستہ آئنے ترتیب سے لگا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس کس سے کر کے اس کو…

Read More

رحمان حفیظ ۔۔۔ اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!

اب وہ پہلے سا رہا کب ہے اتر کر مجھ میں!صاف کم تر نظر آتا ہے وہ بر تر مجھ میں آئنہ دیکھنا اب فرض ہُوا ہے مجھ پراب نظر آنے لگا ہے تیرا پیکر مجھ میں جس نے بھی دیکھا اسے چشمِ ہوس سے دیکھاباہر آئی جو تمناّ بھی، سنور کر مجھ میں جو کرن بن کے مِری آنکھ میں دَر آئی تھیآج بھی جیسے وہ ساعت ہے منوّر مجھ میں اوّل اوّل جو مِرے کان میں ٹپکائی گئیگونجتی ہے وُہی آواز برابر مجھ میں

Read More

انصر حسن ۔۔۔ مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے

مجھ پہ میرے شہر کے ہر شخص کا احسان ہے کوئی میری زندگی ہے کوئی میری جان ہے کس لئے کوئی نگارش میں زمانے کی پڑھوں بچپنے سے پاس میرے میر کا دیوان ہے جسم کے زندان سے آزاد کوئی ہو گیا یار مسجد میں کسی کی موت کا اعلان ہے رہ رہا ہوں ان دنوں میں ایک ریگستان میں شہر ہے برباد بستی بھی مری ویران ہے دل یہ کہتا ہے کہ آئیں گے مسافر لوٹ کر دل یہ کہتا ہے کہ ملنے کا ابھی امکان ہے جو ترا…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں

بوتے ہیں خواب میں دن، اوِر رات کاٹتے ہیں ہم اپنی جاں پہ کیا کیا آفات کاٹتے ہیں لطفِ سخن ہی اُن سے باقی نہیں رہا اَب ہم بات جوڑتے ہیں وہ بات کاٹتے ہیں کیا پوچھتے ہو ہم سے کیا لکھ رہے ہیں ، لیکن اِتنی خبر ہے جس پر یاں ہات کاٹتے ہیں اے آسماں تجھے کچھ معلوم ہے حقیقت ہم کس طرح سے اپنے اوقات کاٹتے ہیں تھم جائے گا بالآخر یہ زورِ گریہ خاورؔ چلیے اِک اور غم کی برسات کاٹتے ہیں

Read More

قابل اجمیری

خود اہلِ کشتی کی سازشیں ہیں کہ نا خدا کی نوازشیں ہیں وہیں تلاطم کو ہوش آیا جہاں کناروں نے ساتھ چھوڑا

Read More