راحت سرحدی ۔۔۔ آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر

آئنہ دل اور ستارہ ٹوٹ کر جڑ نہیں سکتا دوبارہ ٹوٹ کر آج بھی ہے آنکھ میں اُس کی خلش چبھ گیا تھا اک نظارہ ٹوٹ کر اُس کے قدموں میں بکھرنے کے لیے پھول کرتے ہیں اشارہ ٹوٹ کر زندگی کیا ہے بڑی آسانی سے کہہ گیا مجھ کو ستارہ ٹوٹ کر جا لگا چُپ چاپ دریا کے گلے ایک دن آخر کنارہ ٹوٹ کر تم کو ثابت دیکھ کر حیرت ہوئی جس جگہ پر ہے گزارہ ٹُوٹ کر ہاتھ کب آتا ہے راحت سرحدی تار سے گیسی غبارہ…

Read More

علی حسین عابدی ۔۔۔ درد جاگے تو خواب سوتے رہے

درد جاگے تو خواب سوتے رہے ہم بھی ایسے میں خوب روتے رہے زندگی بوجھ بن گئی تھی مگر ہم اُسے خوش دلی سے ڈھوتے رہے ہم بدلتے رہے لباسِ سخن یوں خوشی کو غموں میں جوتے رہے یک بہ یک اشکِ نارسا کل شب روح کا پیرہن بھگوتے رہے ہم بھی سب کی خوشی میں خوش ہو کر عمر بھر اپنا غم بلوتے رہے عابدی جو بکھر گئے تھے کبھی وہ تعلق سبھی پروتے رہے

Read More

قابل اجمیری

خود اہلِ کشتی کی سازشیں ہیں کہ نا خدا کی نوازشیں ہیں وہیں تلاطم کو ہوش آیا جہاں کناروں نے ساتھ چھوڑا

Read More

سید آل احمد ۔۔۔ ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے

ہم اہلِ دل نے نہ دیکھے بسنت کے لمحے کھلے نہ پھول کبھی خواب میں بھی سرسوں کے عجیب مرد تھے زنجیرِ کرب پہنے رہے کنارِ شوق کسی شاخِ  گل کو چھو لیتے اُفق پہ صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے ستارے ڈوب چکے‘ مشعلیں بجھا دیجے مرے خدا ! مری دھرتی کی آبرو رکھ لے ترس گئی ہیں نئی کونپلیں نمو کے لیے مری وفا کے گھروندے کو توڑنے والے! خدا تجھے بھی اذیت  سے ہمکنار کرے بجھی نہ پیاس کبھی تجربوں کے صحرا میں تمام عمر سفر میں…

Read More

خاور اعجاز ۔۔۔ موجِ دریا سے ضروری تھا کہ لڑتے رہتے

موجِ دریا سے ضروری تھا کہ لڑتے رہتے گلے پڑتے تھے جو گرداب تو پڑتے رہتے شعر کہنا کوئی آساں نہیں میرے نقّاد !  ہم تِری طرح سے پنسل نہیں گھڑتے رہتے ایک دن مان لی اُس کی سو بہت خوار ہُوئے کام بن جاتے اگر روز بگڑتے رہتے اور بھی رہتا اگر تن پہ لباسِ ہستی داغ دھبے مِری پوشاک  پہ پڑتے رہتے آدھا آدھا کیا جاگیر کو تب  چین ہُوا کب تلک بھائی سے بیکار جھگڑتے رہتے

Read More

جلیل عالی ۔۔۔ تیری محفل پہ بُرا وقت جو آیا ہوا ہے

تیری محفل پہ بُرا وقت جو آیا ہوا ہے آپ ہی دیکھ کہاں کس کو بٹھایا ہوا ہے ناگہاں آگ جل اٹھتی ہے کسی کونے سے کوئی آسیب در و بام پہ چھایا ہوا ہے نئی تعمیر کے آثار  تو دیکھے نہ کہیں شہر کا شہر مگر آپ نے ڈھایا ہوا ہے ہم کہ اک عمر چراتے رہے آنکھیں جن سے اُن سوالات نے اب حشر مچایا ہوا ہے دشمنوں کی کسی سازش کا نہیں دخل اِس میں یہ جو ادبار ہے اپنا ہی کمایا ہوا ہے کھیل سے ہی…

Read More

کرامت بخاری ۔۔۔ دل مضطرب ہے اور کوئی اضطراب ہے

دل مضطرب ہے اور کوئی اضطراب ہے خانہ خراب خواب کا عالم بھی خواب ہے تاخیر کی تپش سے توانا ہوا ہے دل تعجیل کے سفر کا یہ تازہ  نصاب ہے لہجے میں ہے لہو کا بھی کچھ ذائقہ جناب یہ خون سے خطاب کی خواہش کا باب ہے رو رو کے میں نے لفظ لکھے لوحِ زیست پر شیون کا شور شعر کا اصلی شباب ہے مٹی میں جو مہک ہے وہ اعلیٰ نسب سے ہے یعنی ابوتراب سے عزت مآب ہے اشکِ رواں کی رسم کرامت سے کم…

Read More

کرامت بخاری ۔۔۔ حسرت و ناصر و عدم تو نہیں

حسرت و ناصر و عدم تو نہیں پھر بھی چرچا ہمارا  کم تو نہیں کوئی مقتل ہو یا کوئی دربار سر ہمارا کہیں پہ خم تو نہیں میرے ہاتھوں میں ہے قلم اب تک ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں میں قلم کو زباں سمجھتا ہوں ہاتھ میرے ابھی قلم تو نہیں اے مسافر ترے مقدر میں جامِ حسرت ہے جامِ جم تو نہیں دفترِ دہر پڑھ کے دیکھ لیا تم ہی تم ہو کہیں پہ ہم تو نہیں ہے کرامت غزل میں اور بھی کچھ صرف لہجے کا زیر…

Read More