قفس ہے جو بہ شکلِ سائباں رکھا ہوا ہے ہمارے سر پہ یہ جو آسماں رکھا ہوا ہے تِری آنکھوں میں کیوں جھلکا نہیں رنگِ تمنّا؟ ترے سینے میں دِل کیا رائیگاں رکھا ہوا ہے! تکبر سے کمر کوزہ ہوئی ہے آسماں کی زمیں کو خاکساری نے جواں رکھا ہوا ہے کسی منظر میں بھی تا دیر رکتا ہی نہیں مَیں یہ چشمہ آنکھ کا مَیں نے رواں رکھا ہوا ہے مِرے الفاظ کو کندن بنا دے گا کسی دن زباں کی تہہ میں جو آتش فشاں رکھا ہوا ہے…
Read MoreTag: hafeez
یوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا ۔۔۔ حفیظ تائب
یوں ذہن میں جمالِ رسالت سما گیا میرا جہانِ فکر و نظر جگمگا گیا خلُقِ عظیم و اسوہء کامل حضورﷺ کا آدابِ زیست سارے جہاں کو سکھا گیا اُس کے قدم سے پھوٹ پڑا چشمہء بہار وہ دشتِ زندگی کو گلستاں بنا گیا انوارِ حق سے جس نے بھرا دامنِ حیات جو نکہتِ وفا سے زمانے بسا گیا رہ جائے گا بھرم مرے حرفِ نیاز کا اُس بارگاہِ ناز میں گر بار پا گیا کتنا بڑا کرم ہے کہ تائب سا بے ہنر توصیفِ مصطفٰےﷺ کے لیے چن لیا گی…
Read Moreرحمان حفیظ
خدا کرے کہ مِرا بس چلے عناصر پر میں اور وقت بناؤں تری گھڑی کے لیے
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔ اْڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک
اُڑاتے آئے ہیں آپ اپنے خواب زار کی خاک یہ اور خاک ہے، اک دشتِ بے کنار کی خاک! ڈرا رہے ہو سفر کی صعوبتوں سے ہمیں! تمھارے منہ میں بھی خاک، اور رہ گزار کی خاک! یہ میں نہیں ہوں تو پھرکس کی آمد آمد ہے! خوشی سے ناچتی پھرتی ہے رہگزار کی خاک ہمیں بھی ایک ہی صحرا دیا گیا تھا، مگر اُڑا کے آئے ہیں وحشت میں تین چار کی خاک ہمیں مقیم ہوئے مدتیں ہوئیں، لیکن سَروں سے اب بھی نکلتی ہے رَہ گزار کی خاک…
Read Moreحفیظ جالندھری
مَیں اپنی زندگی کو برا کیوں کہوں حفیظ رہنا ہے اس کے ساتھ میاں عمر بھر مجھے
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔۔ سب کا پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے
سب کا پیرایہء اظہار بدل جاتا ہے منہ میں لقمہ ہو تو پندار بدل جاتا ہے گام دو گام پہ ہوتی ہے جب اپنی نصرت تو ہمارا سپہ سالار بدل جاتا ہے جب کبھی ہم کسی معیار پہ پورے اتریں ایسا ہوتا ہے وہ معیار بدل جاتا ہے اتنے یکساں ہیں مری قوم کے سب معمولات صرف تاریخ سے اخبار بدل جاتا ہے میں سمجھتا ہوں شفایاب ہُوا ہوں لیکن چارہ گر بس مِرا آزار بدل جاتا ہے
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔ حسن ایسا کہ جو سب کو نظرآنے کا نہیں
حسن ایسا کہ جو سب کو نظرآنے کا نہیں عشق اِتنا کہ مِرے دل میں سمانے کا نہیں بات ہے اور زباں پر نہیں لانے والی راز ہے اور کسی سے بھی چھپانے کا نہیں جی میں آتی ہے کہ لَے اور اٹھا تا جاؤں اور یہ گیت کسی کو بھی سنانے کا نہیں آپ سودائی ہیں تو شہر میں وحشت کیجے یہ اثاثہ کسی صحرا میں لٹانے کا نہیں آپ ہی اپنے لیے گوشہءعا فیّت ہُوں خود سے نکلوں تو کسی اور ٹھکانے کا نہیں
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔۔ کسی گماں کسی امکان پر تو لکھوں گا
کسی گماں کسی امکان پر تو لکھوں گا میں رحلِ شب پہ بھی ناِم سحر تو لکھوں گا فگار انگلیاں ہو یا پھٹی ہوئی آنکھیں میں لکھنے والا ہوں تازہ خبر تو لکھوں گا کہانیوں سے میں آنکھیں چراؤں گا کب تک؟ چلو زیادہ نہیں ، مختصر تو لکھوں گا سلگ رہاہے تہ ِ فکر جو خیال اسے میں آگ کر نہیں پایا شرر تو لکھوں گا جو میرے قلب سے ابھرا ، نظر میں ٹھہرا ہے یہ ماہتاب کسی چرخ پر تو لکھوں گا ابھی تو دشتِ نظر میں…
Read Moreرحمان حفیظ ۔۔۔۔۔ ہوئے ہجرت پہ مائل پھر مکیں آہستہ آہستہ
ہوئے ہجرت پہ مائل پھر مکیں آہستہ آہستہ بہت سی خواہشیں دِل سے گئیں آہستہ آہستہ ہَوا اس سانحے میں غیر جانبدار نکلی، سو دھوئیں کی ایک دو موجیں اٹھیں آہستہ آہستہ مجھے ماہِ منور نے بہت اْلجھائے رکھا، اور سمندر کھا گئے میری زمیں آہستہ آہستہ مری آنکھیں گماں کے سِحر میں ہی تھیں مگر دل میں نمو پاتا گیا سچا یقیں آہستہ آہستہ بڑی تیزی سے چلتا آ رہا تھا اپنی جانب میں کہ دل سے اک صدا آئی ’’ نہیں!آہستہ آہستہ‘‘ میں اب آئندہ کے پھیلاؤ کو…
Read Moreحفیظ ہوشیار پوری
ہر مُردہ بدستِ زندگاں ہے مَیں زندہ بدستِ مُردگاں ہوں
Read More