شام کے تن پر سجی جو سرمئی پوشاک ہے ہم چراغوں کی فقط یہ روشنی پوشاک ہے
Read MoreTag: Urdu adab
عابد ادیب
شاہراہیں دفعتاً شعلے اگلنے لگ گئیں گھر کی جانب چل پڑا ہے شہر گھبرا کر تمام
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا جینا ابھی دے گا مجھے رسوائیاں کیا کیا کچھ قطعِ رگِ جاں سے، کچھ قُلقُلِ خوں سے بجتی ہیں محلّات میں شہنائیاں کیا کیا خود نام پہ دھبے ہیں جو، ہاں نام پہ اُن کے ہوتی ہیں یہاں انجمن آرائیاں کیا کیا قوسوں میں فلک کی، خمِ ابرو میں ہَوا کے دیکھی ہیں یہاں خلق نے دارائیاں کیا کیا جو چھید ہوئے تھے کبھی دامانِ طلب میں دیں دستِ غضب نے اُنھیں، پہنائیاں کیا کیا ہٹ کر بھی ہمیں پرورشِ جاں سے…
Read Moreشاہین عباس
اوپر جو پرند گا رہا ہے نیچے کا مذاق اڑا رہا ہے
Read Moreقمر جلالوی ۔۔۔ آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو
آہ کیا دل کے دھڑکنے کی جو آواز نہ ہو نغمہ ہو جاتا ہے بے کیف اگر ساز نہ ہو میں نے منزل کے لیے راہ بدل دی ورنہ روک لے دیر جو کعبہ خلل انداز نہ ہو مرتے مرتے بھی کہا کچھ نہ مریضِ غم نے پاس یہ تھا کہ مسیحا کا عیاں راز نہ ہو ساقیا، جام ہے ٹوٹے گا صدا آئے گی یہ مرا دل تو نہیں ہے کہ جو آواز نہ ہو اے دعائے دلِ مجبور! وہاں جا تو سہی لوٹ آنا درِ مقبول اگر باز…
Read Moreنجیب احمد
نجیب اک دن جو پاؤں پڑ رہا تھا وہ پانی سر سے اونچا ہو رہا ہے
Read Moreمحسن اسرار
اسے دکھ ہے تو کیوں کرتی نہیں دکھ کا تدارک ہے دنیا دار تو پھر مصلحت خُو کیوں نہیں ہے
Read Moreخالد احمد
تہِ آسمانِ دنیا ، سرِ خاک دانِ دُنیا مرے ساتھ ساتھ رہنا ، مجھے سائے سائے رکھنا
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ دل اس لیے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوست
دل اس لیے ہے دوست کہ دل میں ہے جائے دوست جب یہ نہ ہو بغل میں ہے دشمن بجائے دوست مٹنے کی آرزو ہے اسی رہ گزار میں اتنے مٹے کہ لوگ کہیں خاکِ پائے دوست تقریر کا ہے خاص ادائے بیاں میں لطف سنیے مری زبان سے کچھ ماجرائے دوست سب کچھ ہے اور کچھ نہیں عالم کی کائنات دنیا برائے دوست ہے عقبیٰ برائے دوست
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ کیا کہتے کیا جی میں تھا
کیا کہتے کیا جی میں تھا شور بہت بستی میں تھا پہلی بوند گری ٹپ سے پھر سب کچھ پانی میں تھا چھتیں گریں گھر بیٹھ گئے زور ایسا آندھی میں تھا موجیں ساحل پھاند گئیں دریا گلی گلی میں تھا میری لاش نہیں ہے یہ کیا اتنا بھاری میں تھا آخر طوفاں گزر گیا دیکھا تو باقی میں تھا چھوڑ گیا مجھ کو علوی شاید وہ جلدی میں تھا
Read More