شاہین عباس

میری آنکھوں کا تسلسل تری آنکھیں ہی نہ ہوں تیری آنکھوں میں بھی روتا نظر آیا ہے کو ئی

Read More

شاہین عباس

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا

Read More

اشرف کمال ۔۔۔ میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے (ماہنامہ بیاض مارچ 2022)

میرے لفظوں کو وہ اظہار میسر آئے میری خوشبو مرے دشمن کو بھی چھوکر آئے کاش ایسا بھی کوئی آنکھ میں منظر آئے چاند بڑھ کر ترے سائے کے برابر آئے میرے اندر کے نہ توڑے درودیوار ابھی درد سے کہ دو مری آنکھ سے باہر آئے ایک میں ہوں کہ مرے ہاتھ ہیں خالی اب تک ایک تو ہے کہ ترے ہاتھ سمندر آئے کوئی دشمن مرے معیار پہ اترا ہی نہیں مجھ سے لڑنے کے لیے کوئی سکندر آئے کچھ تو نیچے ہوں امیروں کے فلک بوس مکان…

Read More

نجیب احمد

میں تو گھر سے کبھی نہیں نکلا کس کا نقشِ قدم ہے چار طرف

Read More

اکبر الہ آبادی

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

Read More

قابل اجمیری

زمانہ کھیل رہا ہے تمہاری زلفوں سے ہمارے حالِ پریشاں کی بات کون کرے

Read More

مرزا غالب

بات پر واں زبان کٹتی ہے وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

Read More

جون ایلیا

یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم

Read More

اطہر نفیس

وہ دور قریب آ رہا ہے جب دادِ ہنر نہ مل سکے گی

Read More

اصغر گورکھپوری ۔۔۔ چلتے چلتے رک جاتا ہے

چلتے چلتے رک جاتا ہے دیوانہ کچھ سوچ رہا ہے اس جنگل کا ایک ہی رستہ جس پر جادو کا پہرا ہے دور گھنے پیڑوں کا منظر مجھ کو آوازیں دیتا ہے دم لوں یا آگے بڑھ جاؤں سر پر بادل کا سایا ہے اس ظالم کی آنکھیں نم ہیں پتھر سے پانی رستا ہے بھیگا بھیگا صبح کا آنچل رات بہت پانی برسا ہے

Read More