دل کی رفتار زلزلائی ہوئیاپنے قدموں پہ ڈگمگائی ہوئی درد نے طرز ہے بنائی ہوئییہی بندش ہے دل کو بھائی ہوئی سوز خوانی نہ سنیو سینے کیآنکھ مت دیکھ ڈبڈبائی ہوئی لمحہ لمحہ ، کریدتا گزراآہ : دیوار جاں یہ ڈھائی ہوئی لاؤ اب ساخت کوئی دل کی نئیبے دھڑک سی نپی نپائی ہوئی
Read MoreMonth: 2021 اگست
کاشف مجید ۔۔۔ دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا
دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا ہمیں پکارا گیا اور بہت پکارا گیا ہمارا اور تمہارا ملال ایک سا ہے اِدھر چراغ بجھا اور اُدھر ستارا گیا بہت خلوص سے تونے عطا کیا تھا جو وہ ایک خواب بھی مجھ سے نہیں گزارا گیا عجیب جنگ یہاں پر لڑی گئی جس میں نہ کوئی زندہ بچا اور نہ کوئی مارا گیا مجھے خبر ہے وہ میری طرف بھی دیکھتا تھا مجھے خبر ہے مگر میں نہیں دوبارا گیا
Read Moreیونس خیال
پھر کسی آدمی کی آمد تھی پھر فرشتوں پہ خوف طاری تھا
Read Moreنذیر قیصر
ستارہ ایک سرائے پہ آ کے ٹھیر گیا دعا تمام ہوئی، راستہ تمام ہوا
Read Moreذوالفقار نقوی … حسن سے تیرے کشیدیں گی سہارا کتنا
حسن سے تیرے کشیدیں گی سہارا کتنا ان بجھی آنکھوں سے ہو گا بھی گزارا کتنا رنگ بھر لائے ہو تصویر میں اتنے ،لیکن اس میں احساس کی نگری کا ہے گارا کتنا سر پہ ہر روز نئی اینٹ ہے لادی جاتی تو نے اے یار! مرا بوجھ اتارا کتنا شہر تَو روز چلی جاتی ہے غازہ مَل کر جانِ من! میرے لئے خود کو سنوارا کتنا ڈوبنے والے نے موجوں سے بس اتنا پوچھا یہ بتا دو کہ ہے اب دور کنارہ کتنا مسئلہ اتنا بڑا تو نہیں تھا…
Read More