سخن درماندہ ہے اظہار کو عنواں نہیں ملتا کوئی بھی لفظ ان کی شان کے شایاں نہیں ملتا اُسی دارِ شفا سے لوٹتے ہیں کامراں ہو کر جنھیں چارہ گرانِ عصر سے درماں نہیں ملتا ستارہ سعد رہ سکتا نہیں اُن سے جدا ہوکر انھیں کھوکر صدف کو گوہرِ تاباں نہیں ملتا بڑھے جب کوئی اُن کے کارواں کو چھوڑ کر آگے مسافت کے لیے اُس کو سر و ساماں نہیں ملتا کہیں خُلقِ جہاں آرا و عالمگیر سے ہٹ کر کسی کو اعتبارِ عظمتِ انساں نہیں ملتا بہت ملتے…
Read MoreCategory: نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سید فرخ رضا ترمذی
شہرِ سرکارِ دوعالم کی فضا کیف میں ہے ہوکے مس گنبدِ خضریٰ سے ہوا کیف میں ہے عشقِ سرور مرے سینے میں، لبوں پر ہے دعا وجد میں دل ہے مرا،حرف دعا کیف میں ہے جس طرف دیکھیے چھائی ہے گھٹا رحمت کیاس لیے شہرِ مدینہ کی ہوا کیف میں ہے درِ زہرا سے کبھی کوئی نہ پلٹا مایوسغور سے دیکھیے ہر ایک گدا کیف میں ہے نعت جو میں نے پڑھی روضۂ اطہر پہ رضا ذکرِ سرور سے مدینہ کی فضا کیف میں ہے
Read Moreنعتِ رسولِ مقبول ؐ ۔۔۔۔ محمد افضال انجم
نعتِ رسولِ مقبول ؐ قلم کو مدحتِ خیرالانامؐ چاہیے ہے اسی میں قلب و نظر کو مقام چاہیے ہے خطاے عمر ِگزشتہ معاف ہو جائے درِ حضورؐ پہ وہ اہتمام چاہیے ہے طواف ِگنبد اخضر نگاہ کرتی رہے مجھے مدینہ میں ایسا مقام چاہیے ہے کبھی میں پیشِ رسالت مآبؐ ہو جائوں شمار انؐ کے غلاموں میں نام چاہیے ہے زبان ذکر کرے سرورِ دو عالمؐ کا یہی وظیفہ مجھے صبح شام چاہیے ہے وہ جن کے پائوں کی ٹھوکر پہ کہکشایئں ہیں مجھے تو انؐ پہ درود و سلام…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ سعید راجا
نصابِ حسن و ہدایت پہ بات کی جائے حضورِ پاک کی سیرت پہ بات کی جائے کہ جس کے بعد نہ آئے گا اب نبی کوئی اسی نبی کی نبوت پہ بات کی جائے میں امتی ہوں خدا کے رسولِ ارفع کا مِرے نصیب کی رفعت پہ بات کی جائے کسی کو ضد ہے کہ تفصیل دوں گناہوں کی مُصِر ہوں میں کہ شفاعت پہ بات کی جائے میں واقعہ شبِ معراج کا سناتا ہوں جو اوجِ شانِ رسالت پہ بات کی جائے مِرے نبی کے مدینے سے ہو کے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ نسیم سحر
اللہ کی برکت کی کیا شان مدینے میں ! اِک نُور کا عالم ہے ہر آن مدینے میں حاضر تو ہوں مکّے میں، اور دھیان مدینے میں ہے جسم یہاں میرا، اور جان مدینے میں طیبہ میں عطا ہو گا آرا م و سکوں کتنا دیکھو ذرا تم رہ کر مہمان مدینے میں کچھ نعتیں مَیں پنڈی میں کیسے بھلا لکھ پاتا؟ ہونا تھا مکمل جب دیوان مدینے میں سانسیں مری باقی ہیں وہ جب بھی مکمل ہوں بس اتنی تمنا ہے دوںجان مدینے میں میں اُن ؐ کے بُلاوے…
Read Moreاحمد محسود
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب عطا مجھ کو نعت ہوتی ہے معتبر میری ذات ہوتی ہے نعت جو لکھتا ہوں تو لگتا ہے میری آقاؐ سے بات ہوتی ہے اسمِ احمد لیا اندھیرے میں یوں اندھیرے کو مات ہوتی ہے نعت کے یوں بہت تقاضے ہیں لازمی احتیاط ہوتی ہے سبز گنبد پہ ہے نظر احمد خوب رو کائنات ہوتی ہے ………….. غزل میں اگرچہ گھماؤ میں ہوں لگ رہا ہے بہاؤ میں ہوں میں ہوں زیرِ اثر کسی کے میں کسی کے دباؤ میں ہوں تند…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ آصف ثاقب
مری اشکوں بھری راتیں محمدؐ کے لیے ہیںجگر کی درد سوغاتیں محمدؐ کے لیے ہیں مرے ہر لفظ میں عشقِ نبیؐ کی تحفگی ہےسبھی اشعار اور باتیں محمدؐ کے لیے ہیں خیالوں میں مدینہ ہے وہاں کے واقعے سبمری نعتیں مناجاتیں محمدؐ کے لیے ہیں انھیؐ کی یاد میں میرے نگر میں روشنی ہےوظیفے اور خیراتیں محمدؐ کے لیے ہیں وہاں دل کا نگینہ جب محمدؐ نام کا ہےیہاں آنکھوں کی برساتیں محمدؐ کے لیے ہیں درودِ پاک سے ثاقب فلک سے نور برسےیہ ساون اور برساتیں محمدؐ کے لیے…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ عقیل رحمانی
نام آقاؐ کا دُکھ مٹاتا ہےہر مصیبت میں کام آتا ہے صدقِ دل سے درود جب بھی پڑھیںدل مدینہ ہمیں دکھاتا ہے لَو اُٹھاتی ہے سر چراغوں میںنعت جب بھی کوئی سناتا ہے اپنی اُمت کی مغفرت کا غمسارے غم آپؐ کو بُھلاتا ہے بعد اُنؐ کے نبی نہیں کوئیصاف قرآن یہ بتاتا ہے جب تصور میں آپؐ آتے ہیںدلِ بے نور جگمگاتا ہے اُنؐ کی رحمت کی بھیک ہے اتنیکاسۂ دل چھلکتا جاتا ہے اُس پہ جنت بھی رشک کرتی ہےلَو مدینے سے جو لگاتا ہے آنے والوں کی…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ارشاد نیازی
اس دل کو کہاں موت کہاں خوفِ فنا ہو جس دل کا مقدر ترا نقشِ کفِ پا ہو پلکوں پہ تریؐ دید کا امکان سجا ہو اور لب پہ فقط ایک صدا صلی علی ہو اتریں مرے آنگن میں بھی اب سبز پرندے طیبہ کی ہواؤں سے مرا پیڑ ہرا ہو اس پیکرِ صد ناز کو کہتے ہیں محمدؐ جس پیکرِ صد ناز میں خود آپ خدا ہو ہاتھوں میں لیے آئیں گے کشکول فرشتے خیرات جو زہراؑ ترے باباؐ سے عطا ہو کس طرح کوئی روتے ہوئے دل کو…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔ رخسانہ صبا
نذرانہء نعت روشنی کا سلسلہ ہے آپ کی دہلیز پر بابِ گریہ کھل گیا ہے آپ کی دہلیز پر دل پہ اک آنسو گرا ہے یا مرا احساس ہے اک دیا سا جل اٹھا ہے آپ کی دہلیز پر اسمِ احمد ہے زباں پر روح تک سرشار ہے درد کا کیا ذائقہ ہے آپ کی دہلیز پر پاؤں زخمی ہوکے بھی گردش میں ہیں رکتے نہیں کس بلا کا حوصلہ ہے آپ کی دہلیز پر پھول، خوشبو، رنگ، تتلی، رات، جگنو، صبح و شام جو بھی ہے، محوِ ثنا ہے…
Read More