خاور اعجاز ۔۔۔ دو غزلیں

اِس لیے ہی تو اندھیرے میں دھرے رہتے ہیں شمع رُویوں کے ٹھکانوں سے پرے رہتے ہیں چھوڑ دیتے نہیں جو شاخِ شجر کا دامن زرد موسم میں بھی وہ پات ہرے رہتے ہیں سینہ و دل کہاں فارغ رہے عشاقوں کے یہ خزانے تو عجب غم سے بھرے رہتے ہیں شہر میں جس کی محبت کا ہے چرچا یارو کیا ستم ہے کہ ہم اُس سے ہی ڈرے رہتے ہیں شکوۂ جور و ستم کرتے ہیں ، لیکن حد ہے پھر اُسی شوخ کی خدمت میں مَرے رہتے ہیں …

Read More

ثمر جمال ۔۔۔ دو غزلیں

صدقہ اے یار کیوں نہیں دیتے اپنا دیدار کیوں نہیں دیتے تم مجھے چھوڑ کیوں رہے ہو اب؟ تم مجھے مار کیوں نہیں دیتے جا رہے ہو تو کچھ تحائف دو رنج آزار کیوں نہیں دیتے گھڑی دیتے ہو مجھ کو تحفے میں وقت سرکار کیوں نہیں دیتے مجھ کو غم ہی دیا خدائے جہاں مجھ کو غم خوار کیوں نہیں دیتے بس ثمر مشورہ ہی دیتے ہیں ساتھ اب یار کیوں نہیں دیتے ۔۔۔۔۔ تیرے دل سے فرار چاہتا ہوں دلربا! میں قرار چاہتا ہوں تیرے پہلو میں جو…

Read More

دانش عزیز ۔۔۔ تیری شاہی تو نہیں میرے خدا مانگی تھی

تیری شاہی تو نہیں میرے خدا مانگی تھی میں نے بیٹی کے مقدر کی دعا مانگی تھی تجھ سے مانگی ہی نہیں بادِ صبا کی نعمت موسمِ حبس میں تھوڑی سی ہوا مانگی تھی اس کی پاداش میں خورشید خفا بیٹھا ہے میں نے جگنو سے اندھیرے میں ضیا مانگی تھی وہ ہی دو چار سی خوشیاں وہ ہی تھوڑا سا سکوں یوں بھی تقدیر کہاں سب سے جدا مانگی تھی صاف گوئی مجھے لاحق ہے مرے اچھے طبیب بس اسی واسطے اچھی سی دوا مانگی تھی جبر کے نیزے…

Read More

احمد محسود ۔۔۔ دو غزلیں

کوئی رہبر نہ کوئی زادِ سفر رکھتا ہوں آس منزل پہ پہنچنے کی مگر رکھتا ہوں قید ہونے میں نہیں اور برائی کوئی یہی خفّت یہی سبکی ہے کہ پر رکھتا ہوں دور ابھرتی ہے گلی میں کوئی مانوس سی چاپ بام سے جھانکتا ہوں کھول کے در رکھتا ہوں یہ الگ بات مری لاش نہیں ملتی ہے اپنے اطرف میں تیراک مگر رکھتا ہوں گویا دنیا میں ہی پا لیتا ہوں جنت اپنی ماں کی آغوش میں جب لاڈ سے سر رکھتا ہوں جن کے دامن میں ستاروں کی…

Read More

وسیم جبران … دو غزلیں

فتنہ ہے، تعصب ہے، بندوق ہے ، گولی ہے اِس شہر میں ہر لحظہ بس خون کی ہولی ہے اک نام لیا اُس نے کچھ ایسی محبت سے گویا مرے کانوں میں شیرینی سی گھولی ہے پت جھڑ کی وہی شامیں، آنسو بھی نظر آئے یادوں کی کوئی کھڑکی جب آنکھ نے کھولی ہے اک بار نظر بھر کے دیکھا ہے مجھے اُس نے اک آن میں یہ ہستی مخمور ہے ڈولی ہے میرا نہ تھا وہ کل بھی، سمجھا ہے یہ اب میں نے ہر بات محبت کی ادراک…

Read More

رانامحمد شاہد ۔۔۔ چل رہی ہیں یخ ہوائیں

چل رہی ہیں یخ ہوائیں زرد پتے گِر نہ جائیں بے قراری بڑھ رہی ہے زیرِ لب کچھ گنگنائیں کوئی بھی محرم نہیں ہے حالِ دل کس کو سنائیں جن سے رشتہ ہو وفا کا دور کیسے اُن سے جائیں چند لمحوں کی رفاقت سلسلوں کو کیا بڑھائیں اب تو اک ہی آرزو ہے آپ میرے ہو ہی جائیں حوصلہ شاہد نہیں ہے دوستوں کو آزمائیں

Read More

سعدیہ بشیر ۔۔۔ موسم تو سازگار تھا؛ کھلتا ہوا نہ تھا

موسم تو سازگار تھا؛ کھلتا ہوا نہ تھا ایسی تھیں بارشیں کہ الم بھیگتا نہ تھا وہ شخص بزدلی کی عجب انتہا پہ تھا ہم کو تو کیا ، کسی کو بھی پہچانتا نہ تھا کیسی اداس رات تھی تارے بھی بجھ گئے دل تھا کہ آسمان کو بھی جانتا نہ تھا واعظ کے ہر بیان سے خطبہ الجھ گیا لفظوں کے واہمے کو کوئی تولتا نہ تھا دن اتنا تیز رو تھا کہ سورج نہ دکھ سکا سایا پلٹ کے زیست کو بھی دیکھتا نہ تھا سوچا کیے کہ…

Read More

محمد انیس انصاری ۔۔۔ دو غزلیں

جب برسے گا بادل ، تھوڑی دیر کے بعد بہہ جائے گا کاجل ، تھوڑی دیر کے بعد یادوں نے پھر چھیڑ دیا ہے راگ مَلھار رقص کرے گا پاگل ، تھوڑی دیر کے بعد مہکیں گے رُخسار و لب و عارض کے گلاب جب اُٹّھے گا آنچل تھوڑی دیر کے بعد لمبی نیند نے آخر پیاس بجھا ڈالی کوئی لایا چھاگل ، تھوڑی دیر کے بعد ڈوب نہ جائے رات کا سورج، جانِ انیس چلا نہ جائے سانول ، تھوڑی دیر کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپیل کا بھی حق نہیں…

Read More

انور شعور ۔۔۔ اُف کرے دل اگر زبان سمیت

اُف کرے دل اگر زبان سمیت عرش ہِل جائے آسمان سمیت کوئی رہزن ہو آپ جیسا تو پیشِ خدمت ہے مال ، جان سمیت جب ہوئی اختصار کی درخواست ہم چلے آئے داستان سمیت مکتبِ زندگی میں آتی ہے ایک ایک آن امتحان سمیت قبر باقی نہ یاد ہی باقی نام تک مٹ گیا نشان سمیت دل سے جاتا نہیں وطن کا خیال گو ہم آئے ہیں خاندان سمیت میز بھی ہے یہیں مسہری بھی میرا دفتر ہے یہ مکان سمیت جرمِ الفت عیاں تھا چہرے سے جج نے لوٹا…

Read More

استاد قمر جلالوی ۔۔۔ تو کہتا ہے کہ قبضہ ہے یہاں میرا وہاں میرا

تو کہتا ہے کہ قبضہ ہے یہاں میرا وہاں میرا تو پھر انصاف ہو گا اے بتِ خود سر کہاں میرا چلے آؤ یہاں گورِ غریباں میں نہیں کوئی فقط اک بے کسی ہے جو بتاتی ہے نشاں میرا قمر میں شاہِ شب ہوں فوق رکھتا ہوں ستاروں پر زمانے بھر پہ روشن ہے کہ ہے تخت آسماں میرا

Read More