سامان بہم کر ، کہ نہ لوٹے کبھی خالی یا رب ، کوئی مجھ بے سر و سامان کے در سے
Read MoreCategory: س
نظر امروہوی
سرِ محفل کبھی تنہائیاں محسوس ہوتی تھیں مگر اب خلوتوں میں حشر برپا ہوتا جاتا ہے
Read Moreاحمد فراز
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
Read Moreاکبر الہ آبادی
سمجھ میں صاف آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read Moreخالد احمد
سوچو تو کچھ نہ سمجھو ، سمجھو تو کچھ نہ بولو پھر چپ کا حسن دیکھو ، بیکار لب نہ کھولو
Read Moreمحسن اسرار
سوال یہ بھی ہے زندہ رہیں تو کیوں محسنؔ سوال یہ بھی ہے زندہ نہ کیوں رہا جائے
Read Moreاحمد فراز
سُنا ہے اُس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
Read Moreمیر تقی میر
سدھ خبر اپنے غم زدے کی لے صبح تک رات کو کراہا ہے
Read More