بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read MoreCategory: ق
امیر مینائی
قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر جو چُپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا
Read Moreابراہیم ذوق
قسمت ہی سے لاچار ہوں، اے ذوق! وگرنہ سب فن میں ہوں طاق ، مجھے کیا نہیں آتا
Read Moreحفیظ جالندھری
قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں
Read Moreنشور واحدی
قدم مے خانہ میں رکھنا بھی کارِ پختہ کاراں ہے جو پیمانہ اٹھاتے ہیں وہ تھرایا نہیں کرتے
Read Moreخالد احمد
کوئی پوچھے تو کہیں غیر تھا یا اپنا تھا ایک چہرے کے سوا شہر میں کیا اپنا تھا
Read Moreخالد احمد
قصدِ مدح کیے بیٹھا ہے پھر خالد احمد شان خدا ، خوشبو کے کنگن ، ڈھالے گا لوہار
Read Moreقمر جلالوی
قمر یہ کیا خبر تھی وہ ہمارے دل میں رہتے ہیں رہی جن کے لیے دیر و حرم میں جستجو برسوں
Read Moreاکرم کنجاہی
قد نکلتا ہے یہاں شہر عداوت کس کا اب تو دستار کے ہم ساتھ ہی سر کاٹتے ہیں
Read Moreسلمان باسط
قسمت نام کی فلم میں ہم کو چپ کی ایکٹنگ کرنی ہے تم اپنے کردار میں گم ہو میں اپنے کردار میں گم
Read More