یہ محبت کا علاقہ ہے، یہاں دل ہی کافی ہے نگہبانی کو
Read MoreCategory: ی، ے
ساغر صدیقی
یہ کناروں سے کھیلنے والے ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو
Read Moreاخترالایمان
یہاں تو سب ہی ستم دیدہ غم گزیدہ ہیں کرے گا کون بھلا زخم ہائے دل کا شمار
Read Moreآغا نثار
یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں ہم ایک عمر کا تاوان بھرنے آئے ہیں
Read Moreصوفی تبسم
یہ کس کی چشم فسوں ساز کا کرشمہ ہے کہ ٹوٹ کر بھی سلامت ہیں دل کے بت خانے
Read Moreجون ایلیا
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
Read Moreعرش ملسیانی
یہ بتا حال کیا ہے لاکھوں کا مجھ سے دو چار دس کی بات نہ کر
Read Moreبیدم شاہ وارثی
یہ اچھی پردہ داری ہے، یہ اچھی رازداری ہے کہ جو آئے تمہاری بزم میں دیوانہ ہو جائے
Read Moreاعجاز عبید ۔۔۔ وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں
وہ جسے سن سکے وہ صدا مانگ لوں جاگنے کی ہے شب کچھ دعا مانگ لوں اس مرض کی تو شاید دوا ہی نہیں دے رہا ہے وہ، دل کی شفا مانگ لوں عفو ہوتے ہوں آزار سے گر گناہ میں بھی رسوائی کی کچھ جزا مانگ لوں شاید اس بار اس سے ملاقات ہو بارے اب سچے دل سے دعا مانگ لوں یہ خزانہ لٹانے کو آیا ہوں میں اس کو ڈر ہے کہ اب جانے کیا مانگ لوں اب کوئی تیر تر کش میں باقی نہیں اپنے رب…
Read Moreمرزا اسداللہ خاں غالب ۔۔۔ غزل
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلا رکھیو یارب یہ درِ گنجینۂ گوہر کھلا شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا اِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب آستیں میں دشنہ پنہاں ، ہاتھ میں نشتر کھلا گو نہ سمجھوں اس کی باتیں ، گونہ پاؤں اس کا بھید پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیال خلد کا اک در ہے میری گور کے…
Read More