آنس معین ایک لافانی اور صاحب طرز شاعر: آنس معین ایک عبقری ۔ ایک شعلہء تخلیق ولادت: لاہور.29.نومبر.1960. ۔ وفات: ملتان.5.فروری.1986. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا شاعری محض تخلیق کی کرشمہ سازی ہے یا یہ صرف الفاظ کو برتنے کا ہنر ہے؟ کیا تخلیقی تجربہ وجود کی گہرائیوں سے برآمد ہوتا ہےاور اس میں ماورائے حسی ادراکات بھی شامل ہوتے ہیں؟ کیا شاعری ایک ایسا طرزِ احساس ہے جو شعری مطالبکو صوفیانہ واردات کے قریب لے جاتا ہے؟ یہ اور اس نوع کے کئی اور سوال شاعری کی ماہیت کی بحث میں ہمیشہ…
Read MoreCategory: منتخب مضامين
نعت گوئی اور چند اردو نعت گو شعرا ۔۔۔ علامہ حماد احمد ترک
خدا کے گھر کا رستہ مصطفیٰ کے گھر سے جاتا ہے وہاں سے جاؤ گے تو کوئی پیچ و خم نہیں ہوں گے ’’وہ نظم، جو ختمی مرتبتﷺکی مدحت سے وابستہ ہوتی ہے، نعت کہلاتی ہے، نعت کی کوئی خاص ہیئت تجویز نہیں کی گئی ہے‘‘۔(شعریات از نصیر ترابی) اردو میں نعت عربی اور فارسی سے آئی، بعض شعرانے باقاعدہ نعت لکھی، بعض نے غزل میں نعت کے ایک دو شعر نظم کیے اور مثنوی کی ابتدا میں بھی حمد و نعت اردو شعرا کا وتیرہ رہا۔ نعت کی ابتدا…
Read Moreسید فخرالدین بلے فیملی اور محسن نقوی ، داستانِ رفاقت ۔۔۔ظفر معین بلے جعفری
سید فخرالدین بلے فیملی اور محسن نقوی ، داستانِ رفاقت ولادت : 5۔ مٸی 1947 . ڈیرہ غازی خان ‘ شہادت : 15۔ جنوری 1996 . لاہور تحریر و تحقیق اور انتخابِ کلام : : ظفر معین بلے جعفری سیدی محسن نقوی شاہ جی سراپا محبت تھے نہیں ہیں ان کی محبت بھی زندہ ہے اور وہ بھی۔ سوچتا ہوں کہ کبھی لکھوں ”محسن نقوی اور بلؔے فیملی = داستانِ رفاقت“ لیکن برسوں کی رفاقت کو چند سو صفحات میں بھی کیسے سمیٹ پاٶں گا۔ دس برس سے زائد عرصہ…
Read Moreاردو ادب میں نعت گوئی – ڈاکٹر داؤد احمد
نعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی تعریف و توصیف کے ہیں لیکن عربی ،فارسی،اردو اور مسلمانوں کی دوسری زبانوں میں لفظ نعت صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف اور مدح کے لئے مخصوص ہوگیا ہے۔اب جب بھی ہم نعت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ پارۂ شاعری ہے جس میں سرور کونین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات و صفات کی توصیف و مدح کی گئی ہو۔ نعت کے لئے کوئی مخصوص ہیئت مقرر نہیں…
Read Moreرضوان احمد ۔۔۔ سابق بھارتی وزیرِ اعظم وی پی سنگھ: سیاست دان شاعر
بھارت کے سابق وزیر اعظم وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کا انتقال 26 نومبر 2008کو ہوا تھا، لیکن ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کے سبب یہ خبر دب کر رہ گئی۔ حالانکہ وی پی سنگھ ایسے وزیر اعظم تھے جنہوں نے ملک کی سیاست کا دھارا ہی تبدیل کر دیا تھا۔ انہوں نے1989ء میں پسماندہ ذاتوں اور دبے،کچلے عوام کے لیے شدید مخالفتوں کے باوجود منڈل کمیشن لاگو کیا تھا اور اس کے باعث ان کی حکومت بھی چلی گئی تھی لیکن اس کی پروا نہ کرتے ہوئے وی پی سنگھ…
Read Moreپاکستان میں اردو نعت کا ادبی سفر …. رفیع الزماں زبیری
ڈاکٹر عزیز احسن اپنی کتاب ’’پاکستان میں اردو نعت کا ادبی سفر‘‘ کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ پاکستان میں کن کن شعرا کی شعری کاوشیں منظر عام پر آئیں، کن شعرا نے نعت کو باقاعدہ صنف سخن کے طور پر اپنایا اور وہ شاعر کون ہیں جو مدحیہ شاعری میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ نعت گوئی کا علمی سطح پر کہاں تک تنقیدی اور تحقیقی جائزہ لیا گیا اور یہ کام کس طرح…
Read Moreرضوان احمد ۔۔۔ اردو شاعری میں انوکھی مثال ۔۔۔ ’سرِ زنداں‘ کی شاعری
اردو شاعری میں انوکھی مثال ۔۔۔ ’سرِ زنداں‘ کی شاعری سرزنداں پاکستان کے ایک شاعر عطا محمد خاں کا شعری مجموعہ ہے۔ اسے میں نے اردو شاعری کی انوکھی اور اکلوتی مثال اس لیے کہا کہ اس قسم کا دوسرا کوئی شعری مجموعہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ عالمی ادب میں حبسیہ شاعری کی تو بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ جب شعرا نے حریت فکر کا علم بلند کیا تو انہیں داخلِ زنداں کیا گیا اور وہاں انہوں نے شاعری کی شمع روشن کی۔ اردو میں بھی ایسی متعدد…
Read Moreعصرِ رواں کا نمایندہ تنقید نگار: اکرم کنجاہی ۔۔۔ شاعر علی شاعر
عصرِ رواں کا نمایندہ تنقید نگار: اکرم کنجاہی جناب اکرم کنجاہی سے میری پہلی ملاقات نیشنل بینک آف پاکستان، کراچی میں منعقدہ ایک مشاعرے میں ہوئی۔ دو تین ملاقاتوں کے بعد اُن کا چوتھا شعری مجموعہ ’’دامنِ صد چاک‘‘ اپنے اشاعتی ادارے ’’رنگِ ادب پبلی کیشنز، کراچی‘‘ سے شایع کرنے کی سعادت بھی ملی۔ دامنِ صد چاک سے قبل اُن کے تین شعری مجموعے ’’ہجر کی چتا‘‘، ’’بگولے رقص کرتے ہیں‘‘ اور ’’محبت زمانہ ساز ہے‘‘ شایع ہو چکے تھے۔ دامنِ صد چاک کو دنیائے اُردو ادب میں اتنی پذیرائی…
Read Moreمُشاعروں کی تہذیبی اہمیت اور زبان کا فروغ ۔۔۔ ڈاکٹر خواجہ محمد اکرام الدین
اردو زبان کے فروغ میں مشاعروں کی بڑی اہمیت رہی ہے ۔کسی بھی زبان کی ترقی و ترویج کے لیے ضروری ہوتاہے کہ وہ کثرت سے بولی اور سمجھی جا ئے۔اردو زبان کو اس مقام تک پہنچانے میں کئی سماجی اداروں نے اہم کردار نبھایا ہے ۔ جن میں خانقاہ ،دربار اوربازار کے علاوہ مشاعروں نے بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ مشاعرے سے عام طور شعری محفل کا تصور ابھرتا ہے جو بہت حد تک صحیح بھی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی کئی تہذیبی اور معاشرتی سیاق وسباق…
Read Moreایک اچھا انسان،ایک اچھا شاعر ۔۔۔ حکیم سروسہارنپوری
ایک اچھا انسان،ایک اچھا شاعر جب میں اپنی پاکستان میں گزری ہوئی اٹھاون سالہ زندگی پر نظر کرتا ہوں تو علمی،ادبی،سماجی اور سیاسی شخصیات کا ایک جمِ غفیر ہے جو میرے حافظے کے ایوان میں اپنے اپنے مقام پر سجا ہوا دکھائی دیتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں،جن سے میں ملا،جنہیں قریب سے دیکھا،جنہیں اپنے فکر و خیال سے پرکھا اور لوحِ ذہن پر ان کے نقوش محفوظ کر لیے۔ان کے حسن سلوک میں بے غرضی کے جلوے بھی ملے اور کہیں کہیں خود غرضی کے تاریک جزیرے بھی ڈھکے چھپے…
Read More