انھیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آئو مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
Read MoreTag: غزلیں
سید علی مطہر اشعر ۔۔۔۔۔۔۔ نشانِ رفتگاں ابتر کھڑے ہیں
نشانِ رفتگاں ابتر کھڑے ہیں فصیلیں گر گئیں ہیں، در کھڑے ہیں پسِ منظر کوئی طوفان ہوگا کہ دم سادھے ہوئے منظر کھڑے ہیں ہمیں نے اس کے ترکش کو بھرا تھا مگر ہم بھی نشانے پر کھڑے ہیں سُنا ہے آج وہ باتیں کرے گا سماعت کے لیے پتھر کھڑے ہیں بہت سے سر کشیدہ دار پر ہیں جو باقی ہیں خمیدہ سر کھڑے ہیں ہم اپنا قد بڑھا کر کیا کریں گے غنیمت ہے کہ پیروں پر کھڑے ہیں ہزراروں لوگ میخانے میں اشعر امیدِ قطرہ ء مئے…
Read Moreدوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی ….. سید آلِ احمد
دوشِ ہوا کے سات بہت دُور تک گئی خوشبو اُڑی تو رات بہت دُور تک گئی بادل برس رہا تھا کہ اک اجنبی کی چاپ شب‘ رکھ کے دل پہ ہات بہت دور تک گئی یہ اور بات لب پہ تھی افسردگی کی مہر برقِ تبسمات بہت دُور تک گئی خورشید کی تلاش میں نکلا جو گھر سے مَیں تاریکیٔ حیات بہت دور تک گئی احمدؔ سفر کی شام عجب مہرباں ہوئی اک عمر میرے سات بہت دور تک گئی
Read Moreخالد علیم
کیسے تصویر کریں تیرے خد و خال کو ہم تجھ کو سوچا ہے زیادہ، تجھے دیکھا کم ہے
Read Moreعباس رضوی ۔۔۔۔۔۔ پسِ دیوار دریا دیکھتا ہوں
پسِ دیوار، دریا دیکھتا ہوں میں اپنے خواب تنہا دیکھتا ہوں میں آئینے کی حیرانی میں شامل خود ا پنا ہی تما شا د یکھتا ہوں جب اِن آنکھوں میں سرسوں پھولتی ہے تو ہر منظر سنہرا دیکھتا ہوں میں اکثر رات بھر بیدار رہ کر نئے خوابوں کا رستہ دیکھتا ہوں سسکتے دیکھتا ہوں زندگی کو قضا کو رقص کرتا دیکھتا ہوں میں دریاؤں کو بادل سے اُتر کر زمیں پر پاؤں دھرتا دیکھتا ہوں کسی ناٹک کی تیاری میں اکثر ہوا کو سانگ بھرتا دیکھتا ہوں میں ہر…
Read Moreجگر مراد آبادی
میں ترا عکس ہوں کہ تو میرا اِس سوال و جواب نے مارا
Read Moreظہیر کاشمیری ۔۔۔۔۔۔ موسم بدلا، رُت گدرائی، اہلِِ جنوں بے باک ہوئے
موسم بدلا، رُت گدرائی، اہلِ جنوں بے باک ہوئے فصلِ بہار کے آتے آتے کِتنے گریباں چاک ہوئے گُل بوٹوں کے رنگ اور نقشے، اب تو یونہی مِٹ جائیں گے ہم کہ فروغِ صبحِ چمن تھے، پابندِ فتراک ہوئے مہرِ تغیّر اس دَھج سے آفاق کے ماتھے پر چمکا صدیوں کے اُفتادہ ذرے، ہم دوشِ افلاک ہوئے دِل کے غم نے دردِ جہاں سے مِل کے بڑا بے چین کیا پہلے پلکیں پُرنم تھیں، اَب عارض بھی نمناک ہوئے کِتنے الہڑ سپنے تھے جو دورِ سحر میں ٹوٹ گئے کِتنے…
Read Moreریاض خیر آبادی ۔۔۔۔۔۔ پی لی ہم نے شراب پی لی
پی لی ہم نے، شراب پی لی تھی آگ، مثالِ آب پی لی اچھی پی لی، خراب پی لی جیسی پائی شراب، پی لی عادت سی ہے نشہ ہے نہ اب کیف پانی نہ پیا، شراب پی لی چھوڑے کئی دن گزر گئے تھے آئی شب ِ ماہتاب، پی لی منہ چوم لے کوئی اس ادا سے سرکا کے ذرا نقاب پی لی منظور تھی شستگی زباں کی تھوڑی سی شرابِ ناب پی لی ڈاڑھی کی نہیں ریاض اب شرم جب پا گئے بے حساب، پی لی ……………………………….. مجموعہ کلام:…
Read Moreسید علی مطہر اشعر
پھر لختِ جگر کوئلہ لے آیا کہیں سے اب دیکھیے کیا کیا سرِ دیوار بنے گا
Read Moreازالہ ۔۔۔۔۔۔ اظہر فراغ
ازالہ ۔۔۔۔۔ اظہر فراغ DOWNLOAD
Read More