احمد ندیم قاسمی

حسن کا فرض ہوا کرتی ہے آرائشِ حسن صبح کیا کرتی ہے ہر روز سنورنے کے سوا

Read More

لا موجود ۔۔۔۔۔۔ نعیم رضا بھٹی

لا موجود ۔۔۔۔۔۔۔ شکستہ گھر ہے دہکتے آنگن میں سن رسیدہ شجر کے پتے بکھر چکے ہیں پرندگاں جو یہاں چہکنے میں محو رہتے تھے خامشی کی سلوں کے نیچے دبے پڑے ہیں سلیں جو گھر کی ادھڑتی چھت سے کلام کرتیں تو روشنی کو قرار ملتا قرار جس نے بجھے چراغوں کی حیرتوں کو ثبات بخشا افق سے آگے ہمارے حیلوں فریب دیتے ہوئے بہانوں کی قدر کم تھی سو ہم بقا سے فنا کی جانب پلٹ رہے ہیں خمیرِ آدم ہے استعارہ شکستگی کا خلا سے باہر ہمارے…

Read More

ابو طالب انیم ۔۔۔۔۔۔۔ رخِ سیاہ سنوارا نہیں گیا مجھ سے

رخِ سیاہ سنوارا نہیں گیا مجھ سے چمکتے دن بھی ستارا نہیں گیا مجھ سے دعا کو ہاتھ بھی تھے اور فلک قریب بھی تھا مَیں رو دیا کہ پکارا نہیں گیا مجھ سے مَیں زندگی سے فقط ایک دن ہی چاہتا تھا وہ ایک دن بھی گذارا نہیں گیا مجھ سے یہ بات طے تھی مجھے صرف اس سے ہارنا تھا وہ کھیل اس لیے ہارا نہیں گیا مجھ سے کنویں میں چھوڑ تو آیا تھا یوسفِ دل کو پر اس کے بعد ابھارا نہیں گیا مجھ سے مَیں…

Read More

ناصر کاظمی

تمام عمر یونہی ہم نے دکھ اٹھایا ہے کہ زیادہ خرچ کیا اور کم کمایا ہے

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔۔ عمر بھر درد کا جو بارِ گراں ڈالتے ہیں

عمر بھر درد کا جو بارِ گراں ڈالتے ہیں بعد مرنے کے بہت آہ و فغاں ڈالتے ہیں کون اُٹھا ، کبھی قسمت پہ بھروسہ کر کے مردہ تن میں یہ ارادے ہیں جو جاں ڈالتے ہیں ضعف بازو ہی کا ہوتا ہے جو لڑتے لڑتے جنگ جُو تیغ و تبر، تیر و کماں ڈالتے ہیں تیری جنت میں جو رتھ فاؤ نہیں ہے، مولا ! پاک روحوں کو فرشتے یہ کہاں ڈالتے ہیں کون نکلا ہے سرابوں سے تیقّن لے کر دشت سوچوں میں مسافر کی گماں ڈالتے ہیں…

Read More

نئی صبح طلوع ہو گی ……. یوسف خالد

نئی صبح طلوع ہو گی ……………………… نئی صبح طلوع ہو گی مگر اس صبح سے پہلے مسلط رات کے پہلو سے کچھ اندھی سیاہ راتیں جنم لیں گی اندھیرا اپنے پنجے گاڑ دے گا ہر طرف اک رائیگانی رقص کرتی بستیوں میں پھیل جائے گی یہ ہونا ہے کہ اس ہونے کی تیاری مکمل ہے ہمارے منفعل کردار نے تاریکیوں کی فصل بوئی ہے ہمیں یہ کاٹنا ہو گی مسلسل بے حسی کو اب نتیجہ خیز ہونا ہے یہ فطرت کے تقاضے ہیں نئی صبح طلوع ہو گی مگر اس…

Read More

قلندر بخش جرات

تھا یہ جرأت ہی اُس کے کوچہ میں وہ جو اک خاک کا سا ڈھیر ہے کچھ

Read More

تین عمریں گزرنے کے بعد بھی ۔۔۔۔۔۔ منیر نیازی

تین عمریں گزرنے کے بعد بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شجر جو شامِ خزاں میں ہیں جو مکاں ہیں ان کے قریب کے کسی عمر کی کوئی یاد ہیں یہ نشان شہرِ حبیب کے انھیں دیکھتا ہوں مَیں چپ کھڑا جو گزر گئے انھیں سوچتا یہ شجر جو شامِ خزاں میں ہیں جو مکاں ہیں ان کے قریب کے انہی بام و در میں مقیم تھے وہ مکین شہرِ قدیم کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجموعہ کلام: پہلی بات ہی آخری تھی

Read More

خورشید ربانی ۔۔۔۔۔ رنگ و بوئے زمان و مکاں اور ہے ،یہ جہاں اور ہے

رنگ و بوئے زمان و مکاں اور ہے ،یہ جہاں اور ہے بابِ گل میں ہوا کا بیاں اور ہے ،یہ جہاں اور ہے میں پڑا ہوں کہیں ایک پاتال میں ، حالِ بے حال میں کیا کہوں وہ غمِ رائیگاں اور ہے ، یہ جہاں اور ہے جس کی پلکوں پہ تارے چمکتے نہیں،غم دمکتے نہیں وہ کوئی چشمِ گریہ کناں اور ہے،یہ جہاں اور ہے چاند چمکا اُدھر تو مچلنے لگی ریگِ صحرا اِدھر ریگِ صحرا کا زخمِ گماں اور ہے ،یہ جہاں اور ہے مل گئی ہے…

Read More

ایک صدیوں پُرانی خواہش ….. قاضی حبیب الرحمٰن

ایک صدیوں پُرانی خواہش ……………………… موت بھی ہے زندگی کی اک اَدا زندگی کے ہر طرف ہے زندگی تیرے گھر اُنسٹھ برس سے ہوں مُقیم ایک دن مجھ سے بھی مِل، اے زندگی!

Read More