Tag: خالد علیم
نعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ خالد علیم
خالد علیم ۔۔۔ ماہ و سال کے اس پار
خالد علیم ۔۔۔ نمودِ برگ پہ زردی، زمین گیلی ہے
نمودِ برگ پہ زردی، زمین گیلی ہے درختِ سبز نے دریا کی پیاس پی لی ہے تری نگاہ سے گرادب آشنا ہو جائے اسی لیے تو سمندر کی آنکھ نیلی ہے ستارے ٹوٹ رہے ہیں ہماری قسمت کے سو لگ رہا ہے گرفت آسماں کی ڈھیلی ہے حصار میں کہیں لے لے نہ پھر دل و جاں کو تمھاری یاد کی خوشبو بڑی رسیلی ہے اٹھی جو سینے سے، ہونٹوں میں دب گئی آواز یہ کس طلسم نے میری زبان کیلی ہے تو دل کی آنکھ سے دیکھے گا کیا…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ رباعیات
رباعیات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کہ سمٹتی ہی چلی جاتی ہے رشتوں کی تڑپ کس کو تڑپاتی ہے صدیوں کی خامشی ہے اپنوں کو محیط موجود میں محشر کی صدا آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی بھی نہ کر حکایتِ شوق دراز تارِ رگِ جاں سے جل اُٹھے نغمۂ ساز آنسو ٹپکیں تو جسم و جاں جلنے لگیں سانسیں ٹوٹیں تو ٹوٹ جائے آواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دھوکا ہے، سراب ہے؟ سزا ہے؟ کیا ہے؟ آئینہ ہے سامنے، خفا ہے؟ کیا ہے؟ خود پر ہی بار بار پڑتی ہے نظر میں ہوں؟ تُو ہے؟ کوئی یا…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔۔سلام بہ کربلا
سلام بہ کربلا اے فلکِ کربلا ، تشنہ لب و تشنہ کام دیکھ سرِ دشت ہے سبطِ رسولِ انامؐ قافلۂ صدق کا شاہ سوارِ عظیم راحلۂ صبر کا راہ برِ خوش خرام دیکھ تری خاک پر کس کا گرا ہے لہو کس نے لٹایا ہے گھر، کس کے جلے ہیں خیام اے نگہِ دشتِ شام! دیکھ ذرا غور سے اپنے شہیدوں کا خوں، اپنے اسیروں کی شام کس نے بتایا تجھے، کس نے دکھایا تجھے کذب بیانوں پہ ہے کارِ شجاعت حرام سبطِؓ نبی ؐ کے سوا، ابنِ علیؓ کے…
Read Moreخالد علیم ۔۔۔ جنازے بوڑھے ہاتھوں سے اٹھائے جا نہیں سکتے
کلیات نما( خالد علیم)۔۔۔ تبصرہ: مظفر حسن
محترم خالد علیم کے ” کلیات نما ” میں شاعری کی کم و بیش ہر صنف اپنی جلوہ گری دکھا رہی ہے۔نعت گوئی میں خالد علیم صاحب شوق و نیاز و عشق کے سانچے میں ڈھل کر آتے ہیں۔ خالد صاحب کے ہاں نعت رسولِ کریم، قلب و نظر کی حضوری کا دوسرا نام ہے۔نعت کے ساتھ ساتھ انہوں نے سلام اور منقبت میں بھی اپنی طبعِ رواں کے جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی حمدیہ و نعتیہ رباعیات بھی ان کی قادر الکلامی کی عکاس ہیں۔ کلیات نما میںخالد صاحب…
Read Moreنعت رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔۔ خالد علیم
خالد علیم ۔۔۔ مرے بھی ہاتھ خالی ہیں
مرے بھی ہاتھ خالی ہیں! …………………………. ابھی دوچار دن بھی ہنس کے یہ بولے نہیں تھے اور ابھی جگنو پکڑنے کے بھی دن آئے نہ تھے ان پر غباروں کو ابھی چھونے کی حسرت دل میں باقی تھی غبارے پھٹ گئے اِن پر یہ سارے پھٹ گئے اِن پر بہت معصوم ہونٹوں اور بہت معصوم آنکھیں رکھنے والے دل کشا چہرے مرے ہی سامنے ان گولیوں نے بھون ڈالے ہیں مرے ہی سامنے بارُود سارا ، پھٹ گیا اِ ن پر مرے ہی سامنے اِن کے سنہری بال جل کر…
Read More